خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 218

خطبات طاہر جلدے 218 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء کو یکسر مٹاکر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اسلام کے بین الاقوامی مزاج کو اپنا لیا ہے اور اس کے مظاہر آپ کو کم و بیش دنیا کے ہر ملک میں ملتے ہیں جہاں بھی مشرق اور مغرب احمدیت کے ذریعے اکٹھی ہو رہی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں جو مجمع البحرین کا ذکر ملتا ہے ایک پہلو سے جماعت احمد یہ ہی وہ مجمع ہے جہاں دوسمندر، دوتہذیبوں کے سمندر بالآخر اکٹھے ہوں گے۔آپ جرمن احمدیوں کو بھی دیکھیں اور دیگر جرمن اسلام قبول کرنے والوں کو بھی دیکھیں اس پہلو سے آپ کو ایک نمایاں فرق نظر آئے گا کہ جرمن احمد یوں میں سے اکثر اپنے مزاج میں انکسار پیدا کر چکے ہیں۔ان کے اندر قومی تکبر اور قومی بڑائی کا اثر یا تو کلیہ مٹ چکا ہے یا تیزی سے مٹتا چلا جارہا ہے۔ان میں اسلام کے مزاج کو قبول کرنے کے نتیجہ میں ایک ایسی طبیعت ابھر رہی ہے جو عالمی طبیعت ہے، ایک ایسا مزاج پیدا ہورہا ہے جو عالمی مزاج ہے۔چنانچہ یہ جرمن احمدی جو اپنے پاکستانی یا افریقین یا دیگر احمدی بھائیوں سے ملتے ہیں تو ایک ہی سطح پر ملتے ہیں اور صاف دکھائی دیتا ہے کہ گویا ایک ہی قوم کے دو فرد ہیں۔یہ وہ مجمع البحرین ہے جہاں یہ پرانا مقولہ کھلے طور پر جھٹلایا جا رہا ہے۔اسی طرح انگلستان کا حال ہے، اسی طرح افریقہ کے ممالک کا حال ہے، امریکہ میں بھی نمایاں طور پر خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ یہ اسلام کا معجزہ نمودار ہو رہا ہے اور احمدیت کے سوا دیگر جگہوں پر نہیں ہورہا، دیگر امتزاجات سطحی ہیں لیکن ایسا فطری امتزاج کہ ایک مغرب کا رہنے والا مشرق کے ساتھ حقیقتہ گہرائی کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے وہ اپنی مغربی شخصیت کو بھلا کر ایک ایسی اسلامی شخصیت اختیار کرلے کہ اس کے نزدیک جغرافیائی حدود کی کوئی اہمیت باقی نہ رہے، اس کے نزدیک رنگ و نسل کی تمیز کی کوئی اہمیت باقی نہ رہے ، وہ بالکل ایک ہو جائے۔اس پہلو سے جرمنی میں آنے والے احمدیوں کی خصوصیت سے بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ خطرہ ہے کہ اپنی بعض عادات کی وجہ سے وہ اس بڑھتے ہوئے رحجان کی راہ میں روک نہ بن جائیں اور اس اہم ذمہ داری کو ادا کرنے کی بجائے اس رحجان کو الٹا نہ دیں، اس کو برعکس سمت میں روانہ نہ کر دیں۔یہ وہ خطرہ ہے جس کے پیش نظر میں آج آپ کو مختصر آیہ بتانا چاہتا ہوں، سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے جس کی راہ میں روک بننے کی بجائے اس کو ادا کرنے کے لیے پہلے سے بڑھ کر اس کی طرف توجہ کریں۔