خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 217

خطبات طاہر جلدے 217 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء ہیں، کوئی ہری کرشنا والے بن جاتے ہیں، بعض سکھ بھی ہوئے اور امریکہ میں تو ایک زمانے میں سکھ بنے کا رحجان بہت تھا لیکن اس کے باوجود سفید قو میں سفید ر ہیں اور نیم کالی زرد قو میں ، نیم کالی اور زرد قومیں ہی رہیں اور ان دونوں کے درمیان آپ کو حقیقی امتزاج کوئی دکھائی نہیں دے گا۔لیکن ایک امکان ایسا پیدا ہورہا ہے ایک رستہ ایسا کھل رہا ہے جس کے نتیجے میں یہ بہت ہی زیادہ مؤقر نظر آنے والا ، وزنی نظر آنے والا مقولہ غلط ثابت ہوسکتا ہے اور ہو گا۔قوموں کے درمیان یعنی مشرق اور مغرب کی قوموں کے درمیان امتزاج کی ایک راہ کھل رہی ہے جو احمدیت کے ذریعے کھل رہی ہے اور وسیع تر ہوتی چلی جارہی ہے یہ راہ، پہلے سے بڑھ کر کشادہ ہوتی جا رہی ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام دنیا کو ایک ہاتھ پر اور ایک مزاج پر اکٹھا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو بھیجا تھا۔اس مقولہ بنانے والے کے وسیع تجر بہ پر کوئی شک نہیں لیکن وہ خدا کے نور سے دیکھنے والا انسان نہیں تھا۔اس کی بصیرت ان باتوں تک نہیں پہنچ سکتی تھی جن باتوں کو خدا تعالیٰ کی تقدیر نے ہمیشہ سے مقدر کر رکھا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ ایک ایسا سورج عرب کے صحراؤں میں طلوع ہو چکا ہے جس کی روشنی مشرق اور مغرب میں تمیز کرنے والی نہیں وہ تمام دنیا کا سانجھا سورج ہے، مشترک سورج ہے لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةِ (النور: ۳۶) اسے ایک پہلو سے مشرق کا بھی کہہ سکتے ہیں اور مغرب کا بھی، بیک وقت دونوں کا سورج اور ایک پہلو سے کہہ سکتے ہیں کہ نہ وہ مشرق کا ہے نہ مغرب کا۔وہ سب کا یکساں سورج ہے۔اسی نور کو لے کر آج احمدیت دنیا کے سامنے دوبارہ طلوع ہوئی ہے، دوبارہ ابھری ہے اور ہما را دعوئی یہ ہے کہ ہم ایک ایسے نور کو لے کر آگے بڑھیں گے جو مشرق اور مغرب کے درمیان حائل ہونے والی ہر روک کو دور کر دے گا اور تمام دنیا کو ایک ہی ہاتھ پر اور ایک ہی مزاج پر اکٹھا کر دے گا۔اس پہلو سے جماعت احمدیہ کی بہت ہی عظیم ذمہ داری ہے اور جہاں تک میں دیکھتا ہوں بہت حد تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پہلو سے جماعت احمد یہ اس ذمہ داری کو ادا کر رہی ہے لیکن ہر ملک میں یکساں نہیں اور ہر علاقے میں برابر نہیں۔بعض جماعتوں کو زیادہ توفیق ملی ہے، بعض جماعتوں کو نسبتا کم توفیق ملی ہے اسی طرح مغربی قوموں نے بھی احمدیت سے یکساں فائدہ نہیں اٹھایا بعض جگہ ان میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے مغربیت کے Complex اور احساس