خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 216

خطبات طاہر جلدے 216 خطبه جمعه یکم اپریل ۱۹۸۸ء کثرت کے ساتھ مختلف قوموں کو پناہ دے رکھی ہے اور مشرقی یورپ سے آنے والوں کی تعداد تو یہاں غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔پولینڈ کے باشندے بڑی کثرت سے یہاں آئے ہوئے ہیں۔اس لحاظ سے جرمنی کو یہ خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہاں آپ کو مشرق اور مغرب ہی ملتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے بلکہ شمال اور جنوب بھی اور مختلف نظریات کے ماننے والے بھی یہاں اس عظیم قوم کی پناہ میں اکٹھے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود جو اس مقولے کے مفہوم کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ امتزاج ایک ظاہری امتزاج ہے اور اس کے باوجود مشرق مشرق ہی رہے گی اور مغرب مغرب ہی رہے گی۔مزید اس بات پر غور کر کے دیکھتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے بہت سی افریقین قومیں مثلاً جرمنی میں بھی آباد ہوئیں، انگلستان میں بھی آباد ہوئیں ،فرانس میں بھی آباد ہوئیں مختلف یورپین ممالک میں بڑی کثرت سے وہ قومیں آئیں اور آباد ہو گئیں اور انہوں نے مغرب کے رنگ ڈھنگ بھی اختیار کر لیے بعض مغربی رجحانات میں ان سے بھی آگے بڑھ گئے۔ناچ گانے کو صرف اپنا یا ہی نہیں بلکہ ناچ گانے میں ایسا کمال بھی حاصل کیا کہ ان میں مغرب کو سکھانے والے استاد پیدا ہوئے اور گانے کے متعلق تو آج دنیا اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ سب سے زیادہ چوٹی کے گوئیے جن کا مشرق اور مغرب سب پر اثر ہے وہ افریقہ نے پیدا کئے ہیں اور کر رہا ہے۔شراب کے پینے میں یا دوسری معاشرتی عادات کو اپنانے میں بھی انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کلیۂ مغرب کے رنگ میں رنگین ہوئے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے انہوں نے مکمل طور پر امتزاج اختیار کر لیا ہے لیکن اس کے باوجود جب آپ دیکھتے ہیں تو کالے کالے ہی ہیں اور سفید سفید ہی ہیں۔ان دونوں قوموں کے درمیاں ان دونوں رنگوں کے درمیان کوئی امتزاج نہیں ہے، ان کی فطرتوں کے درمیان کوئی امتزاج نہیں۔ان کی زندگی کی آرزوؤں کے درمیان کوئی امتزاج نہیں ہے وہ اکٹھے رہ کر ایک جیسے نظر آ کر بھی بالکل الگ الگ ہیں اور کہیں آپ کو مشرق اور مغرب کے درمیان ایسی محبت دکھائی نہیں دے گی گویاوہ ایک ہی خاندان کے دو حصے ہوں یہی معنی ہے اس مقولے کا۔چنانچہ وہ سفید فام لوگ جو بعض دفعہ مشرقی رنگ اختیار کر جاتے ہیں ان کے اوپر بھی آپ غور کر کے دیکھیں تو مشرقی عادات اختیار کرنے کے باوجود بھی مغربی ہی رہتے ہیں۔بعض یوگا کو پسند کرتے ہیں، بعض بدھ طریقوں کو پسند کرتے