خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 212

خطبات طاہر جلدے 212 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء ساتھ یہ بھی ان کو خوف رہتا ہے کہ اس شکایت کے نتیجے میں امام کا دل بدظن نہ ہو جائے ۔ تو اسے نرم کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ اس میں یہ برائی تو ہے لیکن ساتھ یہ خوبیاں بھی تو ہیں ۔ اس لئے آپ ناراض نہ ہوں صرف اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ کیسا پاکیزہ ماحول تھا جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قائم کرنے کی توفیق بخشی ۔ یہی وہ ماحول ہے جو زندہ رہنے کے قابل ہے ۔ یہی وہ معاشرہ ہے جس نے آئندہ دنیا کے مردوں کو زندہ کرنا ہے۔ اس کی حفاظت آپ کو کرنی ہو گی ۔ اس معاشرے کو مرنے دیا تو آپ زندگی کے پیغمبر نہیں بن سکتے ۔ فرماتے ہیں : اول تو بیان کرنے والے آپ کی تمام صفات حمیدہ کے قائل اور دلی صلى الله محبت آپ سے رکھتے ہیں اور دوسری کیونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ حکومت قسام ازلی نے دے رکھی ہے اور ذرہ ذرہ سے باتوں میں تادیب کی نیت سے یا غیرت کے تقاضے سے وہ اپنی حکومت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے رسول ﷺ نے عورت کے ساتھ معاشرت کے بارے میں نہایت حلم اور برداشت کی تاکید کی ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ آپ جیسے رشید اور سعید کو اس تاکید سے کسی قدر اطلاع کروں ۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اپنی بیویوں سے تم ایسے معاشرت کرو جس میں کوئی امر خلاف اخلاق معروفہ کے نہ ہو اور کوئی وحشیانہ حالت نہ ہو بلکہ ان کو اس مسافر خانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے صلى الله ساتھ معاشرت کرو اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں خیر کم خیر کم لاهله یعنی تم میں سے بہتر وہا سے بہتر وہ انسان ہے جو بیوی سے نیکی سے پیش آوے اور حسن معاشرت کے لئے اس قدر تا کید ہے کہ میں اس خط میں نہیں لکھ سکتا۔ عزیز من انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالے کر دیا اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر یک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔“ فرمایا بیوی تو مسکین اور ضعیف ہے لیکن وہ خدا جو نظر رکھ رہا ہے وہ مسکین اور ضعیف