خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 211

خطبات طاہر جلدے شدت رکھتے ہیں۔“ 211 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء کیسا پیارا انداز ہے بیان کرنے کا اور ساتھ ہی آپ ان کی طبیعت کو سمجھ رہے تھے کہ وہ جلدی غصے میں آنے والی ہے کہیں وہ دوستوں سے ہی ناراض نہ ہو جائیں کہ کس نے میری شکایت کی ہے۔تو پہلے دوستوں کا دفاع فرمایا خود بتایا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ سے تعلق اخلاص اور محبت اور حسن ظن رکھتے ہیں۔ایک اور اس سے سبق یہ ملتا ہے کہ وہ شکایت جو دشمنوں سے پہنچتی ہے وہ لائق تعزیر نہیں ہوتی اس کے نتیجے میں آپ تعزیر نہیں کر سکتے لیکن جو شکایت دوستوں اور محبت کرنے والوں سے پہنچتی ہے وہ سننے کے لائق ہے وہ ایسی ہے کہ اس کی طرف توجہ دی جائے۔فرمایا: امور معاشرت میں جو بیویوں اور اہل خانہ سے کرنی چاہئے کسی قدر آپ شدت رکھتے ہیں یعنی غیظ و غضب کے استعمال میں بعض اوقات اعتدال کا انداز ملحوظ نہیں رہتا۔“ کیسی زبان کو سلجھا کر لطف کے ساتھ نرمی کے ساتھ لپیٹ کرتا کہ ان کی طبیعت میں کہیں بھی تنافر پیدا نہ ہو، جوش پیدا نہ ہو آپ نے اس پیار سے اپنے مرید کو نصیحت کی جو آپ پر ایمان لاتا تھا کہ آپ خدا کی طرف سے ہیں۔خدا کے مقرر کردہ امام ہیں۔جو آپ سے محبت رکھتا تھا۔اس کے متعلق ایسی احتیاطیں فرما رہے ہیں۔وہ لوگ جو اپنی نصیحت میں اپنے ہم جولیوں ، اپنے ہم عصروں بلکہ اپنے بڑوں سے بھی بدتمیزی کرتے ہیں ان کی نصیحت کیسے کارگر ہو سکتی ہے۔پس نصیحت جب میں کہتا ہوں تو نصیحت کا نمونہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ وہ طریق ہے نصیحت کرنے کا اسے اختیار کریں۔پھر فرمایا: میں نے اس شکایت کو تعجب کی نظر سے دیکھا کیونکہ اول تو بیان کرنے والے آپ کی تمام صفات حمیدہ کے قائل اور دلی محبت آپ سے رکھتے ہیں۔66 ایک اور پہلو بھی نمایاں طور پر ہمارے سامنے رکھ دیا کہ وہ لوگ جو صرف شکایتیں کرتے ہیں ان کی باتوں کی طرف دھیان نہیں کرنا چاہئے۔بچے لوگ وہ ہوتے ہیں جو ساتھ خوبیاں بھی بیان کرنے والے ہوتے ہیں۔خوبیوں سے بھی صرف نظر نہیں کرتے ہیں۔جب وہ شکایت کرتے ہیں تو