خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 213
خطبات طاہر جلدے 213 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء نہیں ہے۔وہ یوں ہی نہیں چھوڑی گئی بلکہ خدا تعالیٰ اس بات پر نظر رکھ رہا ہے، دیکھتا ہے کہ ہر یک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔نرمی برتنی چاہئے اور ہر یک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیونکر شرائط مہمان داری بجالاتا ہوں اور میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے۔مجھے اس پر کون سی زیادتی ہے۔خونخوار انسان نہیں بننا چاہئے ، بیویوں پر رحم کرنا چاہئے اور ان کو دین سکھلانا چاہئے۔“ معلوم ہوتا ہے وہ اس لحاظ سے کوئی کمزوری شاید انہوں نے دیکھی ہو اور چونکہ وہ خود نیک تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ نیکی کو قائم کس طرح کرنا ہے اس لئے اس معاملے میں سختی کی ہے۔تو آپ نے فرمایا: ان کو دین سکھلانا چاہئے۔درحقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقع اس کی بیوی ہے۔میں جب کبھی اتفاقاً ایک ذرہ درشتی بھی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نے صدہا کوس سے میرے حوالے کیا ہے شاید معصیت ہوگی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لئے دعا کرو کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو مجھے معاف فرما دیں اور میں بہت ڈرتا ہوں کے ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔“ ( الحکم ۷ اراپریل ۱۹۰۵ صفحہ: ۶) یہ ہے نمونہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا۔اس نمونہ کو پکڑے بغیر وہ نمونہ زندہ نہیں ہو سکتا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی ا سے سیکھا۔آپ ہی کے مکتب میں یہ شاگرد بڑھا اور جوان ہوا۔آپ ہی کے مکتب میں اس نے اخلاق کے بلند ترین مقامات تک رسائی حاصل کی۔اسلئے جب میں کہتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق ہی دنیا کو زندہ کریں گے تو آج کی دنیا میں اس زمانے میں آپ کا ایک شاگرد کامل پیدا ہو چکا ہے جس نے بتایا ہے کہ وہ اخلاق صرف چودہ سو سال پرانے زمانے کی