خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 207

خطبات طاہر جلدے برداشت نہیں کر سکتے ۔ 207 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء پھر عورتیں ہیں وہ بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ بھی اس قصور میں شریک ہیں کیونکہ اکثر مطالبوں کا آغاز ساسوں سے ہوتا ہے یعنی بیٹے کی ماں کی طرف سے اکثر یہ ہوتا ہے اور جن معاملات میں مجھے تحقیق کا موقع ملا ہے مجھے پتا چلا ہے کہ بسا اوقات ایسے مرد کمزور ہیں جن کی بیویاں یہ مطالبے کرتی ہیں اور ان کے بیٹے ان کے سو فیصدی غلام ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں نیکی اسی بات میں ہے کہ ہر بات میں اطاعت کرو۔ حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اطاعت اس حد تک فرض ہے جس حد تک خدا کی اطاعت سے تمہیں باہر نہ نکالے۔ جہاں ماں باپ کی اطاعت تمہیں خدا کی اطاعت سے باہر نکلنے پر مجبور کرے وہاں تم نے خدا کی اطاعت کرنی ہے ماں باپ کی اطاعت نہیں کرنی۔ یہ واضح حکم موجود ہے اس کے باوجود بعض بے وقوف لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ماں کی خواہش ہے ماں کی نیت ہے اس لئے چاہے وہ اسلام کے خلاف مطالبے کرے ہم اس کے ساتھ چلیں گے اور اس کے کہنے کے نتیجے میں پھر بعض اور بچیوں پر ظلم کرنے والے بن جاتے ہیں۔ تو آغاز عورت سے شروع ہوا ہے ظلم کا اور عورت پر ختم ہوا اور اس کے نتیجے میں پھر ساری سوسائٹی پر سارے معاشرے پر مظالم کی ایک نا ختم ہونے والی داستان شروع ہو جاتی ہے۔ اس لئے بد خلقی کو اگر آپ نے روکنا ہے تو سب سے پہلے گھروں کے ماحول کو سنبھالیں اور گھروں کو بداخلاق بنانے والے جتنے بھی محرکات ہیں ان کا گلا گھونٹیں۔ ان کو جب تک آپ ختم نہیں کریں گے، نیست و نابود نہیں کرتے محض ایک فرضی جہاد کے کوئی بھی معنی نہیں ہیں ۔ جہاد کا تو مطلب ہے آپ پ جانتے ہوں کہ دشمن کہاں ہے، کس قسم کے ہتھیار رکھتا ہے، کسی قسم کی تلواریں ، توپ و تفنگ سے آپ پر حملہ آور ہے جب تک آپ دشمن کے حالات سے واقف نہ ہوں ، اس کی اداؤں سے واقف نہ ہوں، ان جگہوں سے واقف نہ ہوں جہاں سے اس نے حملہ کرنا ہے، ان اوقات سے واقف نہ ہوں جہاں سے سے اس اس ۔ نے حملہ کرنا رنا ہے ہے ا اس وقت تک آپ دفاع کی طاقت ہی ہی نہیں رکھ سکتے یعنی کامیاب دفاع کی طاقت نہیں رکھ سکتے ۔ اس لئے جب میں کہتا ہوں بدیوں کے خلاف جہاد شروع کریں تو یہ مراد نہیں ہے کہ اٹھ کر آپ تقریریں شروع کر دیں کہ بدیوں کے خلاف جہاد کرو۔ سمجھائیں جس طرح میں آپ کو سمجھانے