خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 208

خطبات طاہر جلدے 208 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء کی کوشش کر رہا ہوں، تجزیہ کریں جس طرح میں تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور معلوم کریں کہ آپ کے اپنے اپنے علاقے میں بدخلقی کے اصل محرکات کیا ہیں؟ کیوں بعض بدخلقیاں رائج ہیں اور ان کو تجزیہ کر کے پھر ان کے خلاف باقاعدہ کا روائی کریں۔اگر اس طرح آپ کا رروائی کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ ہماری حالت پہلے سے بہتر ہوتی چلی جائے گی لیکن وقت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اگلی صدی میں داخل ہونے کا بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔صرف ایک سال باقی ہے مشکل سے اور ابھی ہم نے بہت سے کام کرنے ہیں۔بد اخلاقی کے ساتھ ہمیں اگلی صدی میں داخل نہیں ہونا چاہئے۔تمام بد اخلاقیوں کو، بدرسموں کو، ان جہالتوں کو جو اسلام سے پہلے زمانے کی باتیں ہیں ٹوکریاں اٹھائے لئے پھرتے ہیں گند کی وہ اتار کر پھینک دینا چاہئے۔یا درکھیں جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا تھا بدیاں گھروں میں پیدا ہوتی ہیں اور گھروں سے گلیوں میں نکلتی ہیں۔گلیاں پھر شہروں کو گندہ کرتی ہیں پھر وہ ملک گندے ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی ہے جیسے گند کی ٹوکری کوئی گھر سے اٹھائے اور گلی میں پھینک دے۔ترقی یافتہ ملکوں میں گلیاں صاف کرنے کے انتظام ہوتے ہیں اس لئے وہاں کی حکومتیں وہاں کا بیرونی نظام ان بدیوں کو بہت حد تک سنبھالتا ہے اور صفائی کرتا ہے اور ان کو جہاں تک اس نظام کی طاقت ہے دور کرتارہتا ہے اس لئے وہ اکٹھی ہو کر اتنی نمایاں دکھائی نہیں دیتیں۔جن بدیوں کی طرف بیرونی نظر نہیں ہوتی وہ اکٹھی ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ان ملکوں میں بعض بدیاں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ گھروں میں ہی پیدا ہوتی ہیں گھروں سے باہر پھینکی جاتی ہیں گلیوں میں لیکن ان کی صفائی کا کوئی انتظام نہیں اس لئے وہ اکٹھی ہوتی رہتی ہیں۔ظاہری گند کی صفائی کا یہاں انتظام ہے یہاں آپ دیکھیں گے ظاہری گند بہت کم دکھائی دیتا ہے لیکن بعض اور قسم کی بدیاں ہیں ان کی صفائی کا بھی انتظام ہے۔اس پہلو سے ان ملکوں میں وہ بریاں کم دکھائی دیتی ہیں لیکن اس بیچارے ملک کا کیا حال ہو گا جن کے گھروں میں بے حساب گند پیدا ہو رہا ہے اور ان کی ٹوکریاں صبح شام باہر گلیوں میں پھینکی جاتی ہیں اور وہاں کی حکومتیں اور وہاں کے معاشرے ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور طرف نظریں لگی ہوئی ہیں۔اب مذہبی نظام ہے، علماء کا نظام ہے ان کا کام یہ ہے کہ جو گند گھروں سے باہر نکلتے ہیں وہ گلیوں میں ان کی صفائی کا انتظام کریں۔وہ اگر صفائی کی بجائے اپنی ٹوکریاں اور اس میں پھینک رہے ہوں تو ایسے ملکوں کے