خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 206

خطبات طاہر جلدے 206 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء اس کو فرنیچر بنا کے دینا ہے تو اس کے بیس پچیس ہزار ہمیں کیوں نہیں دے دیتے ہم اپنی مرضی کا بنا ئیں گے۔تمہیں کیا پتا کہ ہماری پسند کیا ہے۔اس لئے ہم بہتر جانتے ہیں تم پیسے ہی دے دو اور بے شرمی اور بے حیائی سے وہ پیسے قبول کرتے ہیں پھر اور بعض دفعہ تو ایسا سخت رد عمل ہوتا ہے اس چیز کا کہ ایسے ماں باپ لکھتے ہیں کہ ہماری بیٹی کا یہ ردعمل ہے کہ میں کنواری رہ جاؤں گی میں ایسے ذلیل لوگوں کے گھر نہیں جاؤں گی لیکن بعض لوگ بیچارے ایسے مجبور ہو چکے ہوتے ہیں۔ان کی بیٹیاں بڑی ہو رہی ہیں، ان کی عمریں گزر رہی ہیں کہ وہ پھر سر جھکا کر ایسی سب ذلیل اور غیر اسلامی شرطوں کو قبول کر لیتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ یہ ایک قسم کی بلیک میل ہے جو پھر کبھی بھی ان کی بیٹی کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ہمیشہ یہ کمپنی نظریں، یہ ذلیل نگاہیں مزید اور مزید کا مطالبہ کرتی چلی جاتی ہیں اور اس بیٹی کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اچھا اب فلاں چیز بھی گھر سے لا کر دو، فلاں بات بھی اپنے ماں باپ سے لے کر دو۔ایسے لوگ احمدی نہیں ہیں ان کو وہم ہے کہ وہ احمدی ہیں۔اگر ان کو اخراج از جماعت کی سزانہ بھی دی جائے تو خدا کی تقدیر ان کو جماعت احمدیہ اور اسلام سے خارج کر چکی ہے کیونکہ جو محمد مصطفی امیہ کے نمونہ سے دور ہے اس کا مسلمان کہلانے کا حق ہی کوئی نہیں رہتا۔اس لئے ان باتوں کو معمولی نہ سمجھیں ان کی بیخ کنی کریں اور اگر قطعی طور پر ثابت ہو کہ ایسا واقعہ ہوا ہے تو ان کو ظاہری طور پر بھی جماعت سے خارج کر دینا چاہئے کیونکہ اب مزید ہم اس گند کو ساتھ لے کر آگے نہیں بڑھ سکتے۔اس کے نتیجے میں پھر ہر قسم کی بدخلقی پیدا ہوتی ہے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو پھر آگے اپنی بیویوں سے ذلیل سلوک کرتے ہیں پھر آخر ان کی بیویوں کی شہر میں بھی ٹوٹتی ہیں ان کی بھی زبانیں کھلتی ہیں پھر اگلی نسل کے بچے ہمارے برباد ہوتے ہیں۔اتنا بڑا نقصان کیسے جماعت برداشت کر سکتی ہے۔اس لئے تمام امراء اس بات پر نگران ہو جائیں کہ اگر آئندہ کہیں اس قسم کی بدتمیزیاں ہوں اور بدخلقیاں ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق کمال بے شرمی کے ایسے نمونہ دکھائے جائیں تو ایسے لوگوں کو بلا تاخیر جماعت سے خارج کرنے کی کاروائی کرنی چاہئے۔پھر وہ جائیں جہاں دوسرے معاشرے میں جس قسم کے ان کے مطالبے ہیں شاید پورے ہو جائیں وہاں۔وہاں بھی شاید ایسی باتیں چلتی ہوں لیکن احمدیت میں ہم ان باتوں کو مزید