خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 200

خطبات طاہر جلدے 200 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء گھروں میں اس طرح کے آپس کے معاملات ہیں تو پھر جماعت کی ساری محنت اکارت جائے گی اور اتنے بڑے جو انتظام بنائے جا رہے ہیں ، کارخانے قائم کئے جارہے ہیں دنیا کو اسلام کی طرف لانے کے وہ سارے بے اثر ہو جائیں گے۔بدخلق انسان تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے روحانیت سے کوئی بھی علاقہ نہیں رکھتا، کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا اس کا۔اور بدخلق آدمی کے متعلق یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ داعی الی اللہ بنے گا یا اس کی دعوت الی اللہ میں کوئی تاثیر ہوسکتی ہے۔بدخلقتی تو خدا تعالیٰ کی صفات کے مقابل کی ایک چیز ہے۔اسماء الحسنی کے خلاف ایک شیطانی کوشش کا نام بدخلقی ہے اور ان دونوں کے درمیان کوئی جوڑ نہیں۔صفات باری تعالیٰ اور بداخلاقی یہ ایسے ہی ہیں جیسے رات اور دن ایک کو ہوتے ہوئے دوسرا نہیں ہوسکتا وہاں۔اس لئے بدخلقی کرنے والے جو اپنے گھروں میں بدخلقیاں کرتے ہیں ، اپنی بیویوں سے بدسلوکیاں کرتے ہیں ، بات بات پہ بدتمیزی کرتے ہیں حکم کی راہ اختیار کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں اس میں ان کی مردانگی ہے۔چنانچہ بعض ایسی اطلاعوں کے متعلق جب میں نے اپنے طور پر تحقیق کروائی تو پتا چلا کہ بعض عورتوں نے مبالغہ سے کام نہیں لیا تھا۔واقعہ ان کے ساتھ ، بیچاریوں کے ساتھ روزمرہ یہی سلوک ہوتا ہے۔بات بات پر جھڑ کنا، بات بات پر بدتمیزی سے ان سے گفتگو کرنا، ان کو حکم دینا کے خبر دار یہاں سے اٹھ کر وہاں بیٹھو، میں جو تمہیں کہتا ہوں یوں کرو تو یوں کرنا چاہئے۔وہ باتیں جو انسان اخلاق سے نرمی سے، ملائمت سے کر سکتا ہے اور اپنے گھر کو خود جنت بنا سکتا ہے وہ بدتمیزی اور بدخلقی سے کرنے کے نتیجے میں خود اپنے ہاتھوں سے گھروں کو جہنم بنانے والی بات بن جاتی ہے اور پھر ایسے بچے جو ایسے باپ کو دیکھ رہے ہیں جو آتے ہی گھر میں ایک عذاب لے آتا ہے جس کے جانے سے گھر میں امن آتا ہے، جس کے آنے سے جہنم پیدا ہوتی ہے وہ بچے ہرگز اس باپ کے وفادار نہیں رہ سکتے اس باپ کے فرمانبردار نہیں ہو سکتے اور ایسا باپ جب ان کو نیکی کی نصیحت کرتا ہے تو ان بچوں کے دل میں اس نیکی کے خلاف رد عمل ہوتا ہے۔چنانچہ وہ کبھی بھی ایسی اولاد کو نیک تعلیم دے ہی نہیں سکتے۔نیکی کے لئے ضروری ہے کہ جس شخص کو نصیحت کی جارہی ہے اس کو نصیحت کرنے والے سے محبت ہو اور جو نصیحت کر رہا ہے اس کو اس سے محبت ہو جس کو وہ نصیحت کر رہا ہے۔یہ ایک ایسا بنیادی نقطہ ہے جس کو بھلانے کے نتیجے میں کوئی