خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 199
خطبات طاہر جلدے 199 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء کے اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہرو۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ( النساء:۲۰) یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور حدیث میں ہے خیر کم خیر کم لاهله اور اربعین میں یہ روایت یوں بیان ہوئی ہے خیر کم خیر کم باهله) یعنی تم میں اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو۔کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد : ۱۷ صفحہ: ۷۵ حاشیہ) پس جتنے بھی قضا میں ایسے معاملات ہیں جن میں نوبت طلاق تک پہنچتی ہے ان سب کا فرض ہے کہ وہ جائزہ لیں کہ انہوں نے کہیں اس فعل میں جلدی تو نہیں کی۔کیا اس حد تک صبر سے کام لیا ہے جس حد تک صبر ممکن ہے۔کہیں ان کی اپنی بد خلقتی تو نہیں جس کے نتیجے میں نوبت طلاق تک پہنچ رہی ہے۔پس ہر انسان کو اپنا جائزہ لینا چاہئے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور یہ آپ کا ارشاد آنحضرت ﷺ کے ارشاد پرمبنی ہے کہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں۔“ اور فرمایا: ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا اور یہ در حقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس اتمام نعمت کا شکریہ ہے کہ عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔( ملفوظات جلد اصفحہ: ۳۰۷) اس معاملے میں مجھے اس کثرت سے شکائتیں ملتی ہیں کہ میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر ہمارے