خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 201

خطبات طاہر جلدے 201 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء بھی نصیحت کا نظام کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ نبیوں کو چلتا ہے یہ درست ہے کہ یہ ایک موهبت ہے، ایک خدا تعالیٰ کی طرف سے تحفہ ہے اور کوئی زبر دستی نبوت حاصل نہیں کر سکتا لیکن اللہ تعالیٰ تھے ان کو دیتا ہے جو ان تحفوں کے حقدار ہوتے ہیں خدا کی نظر میں وہ حقدار ٹھہرتے ہیں۔چنانچہ ہر نبی اپنے زمانے میں اخلاق کا بہترین نمونہ تھا اور ہر نبی اپنے زمانے میں اپنی قوم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا تھا۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو سارے عالم کا نبی اس لئے بنایا گیا کہ آپ سارے عالم سے محبت کرتے تھے۔ہر انسان کا مرشد اس لئے بنایا گیا کہ ہر انسان سے آپ کو پیار تھا۔رحمت للعالمین کا لقب تمام دنیا کی الہی کتابوں میں کسی اور جگہ نہیں ملے گا سوائے قرآن کریم اور یہ لقب حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کو خو اللہ تعالیٰ نے عطا فر مایا۔پس رحمت کا نصیحت سے تعلق ہے۔ایسے والدین یعنی خاوند ہو یا بیوی جو ایک دوسرے سے بدتمیزی کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے بد خلقی سے کام لیتے ہیں ان کے بچوں کے دل میں ان کی محبت ختم ہو جاتی ہے اور ان کے بچوں کے دل میں ہمیشہ باغیانہ خیال پیدا ہوتے ہیں۔پھر جب وہ اپنے بچوں کو نصیحت کرتے ہیں تو اس نصیحت میں بھی بدخلقی پائی جاتی ہے، اس نصیحت میں بھی تکبر پایا جاتا ہے اور بدتمیزی پائی جاتی ہے اور بچہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت ہی ذہین چیز ہے۔بچے کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ اس کو پتا نہیں لگتا جو خیال کرتے ہیں ان کو نہیں پتا چلتا ہے کہ بچہ ہے کیا۔بچے کو خدا تعالیٰ نے پوری ذہنی روشنی عطا کی ہوتی ہے اور بڑوں سے اس معاملے میں اس کو ایک فوقیت ہے کیونکہ روشنی طبع کو گناہ کمزور کر دیتے ہیں اور گناہ روشنی طبع کو دھندلا دیتے ہیں۔بچہ چونکہ معصوم ہوتا ہے اس لئے اس کی روشنی طبع اکثر صورتوں میں بالغوں سے بڑھ کر ہوتی ہے اور وہ خود جو نتیجے اخذ کرتا ہے وہ صاف اور روشن نتیجے ہوتے ہیں کیونکہ بچے کے اندر معصومیت پائی جاتی ہے۔اسی لئے سب سے زیادہ روشن ضمیر اور روشن طبع انسان خدا کے انبیاء ہوتے ہیں جو معصوم ہیں۔معصومیت کا فطری روشنی سے گہرا تعلق ہے۔اس لئے وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کو اپنے سے بے وقوف سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ بے وقوف ہوتے ہیں کیونکہ بچے تو روشن ضمیر ہیں وہ جو دیکھ رہے ہیں، ان کو پڑھ رہے ہیں ، ان کو پتا لگ رہا ہے کہ گھر میں ہو کیا رہا ہے ، ہمارے ماں باپ کی اصل نیست کیا ہے، ان کی دلی تمنائیں کس سمت مائل ہیں اور یہ کیا چاہتے ہیں۔بدی سے محبت کرنے والے لوگ