خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 198
خطبات طاہر جلدے 198 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء کر سکتے ہیں جس کے لئے آپ کو پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام دنیا کی آپ نے اصلاح کرنی ہے اور تمام دنیا میں خلق محمدی کی حفاظت کرنی ہے اور تمام دنیا کوخلق محمدی ﷺ سے مزین کرنا ہے۔اتنا بڑا کام ہو اور گھروں میں بدخلقی کی باتیں ہوتی ہیں۔یہ ایک ایسا تضاد ہے جسے خدا کی تقدیر معاف نہیں کیا کرتی۔چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں گھروں میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔سب سے پہلے خاوند کا بیوی سے سلوک ہے۔جو خاوند اپنی بیوی سے اخلاق نہیں برت سکتا اس نے دنیا کو کیا اخلاق سکھانے ہیں۔جو ماں اپنے خاوند کے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتی ، اس سے حسن معاملگی نہیں کرتی اس نے دنیا کو کیا اخلاق سکھانے ہیں۔ایسا ماحول جس میں خاوند بیوی کے ساتھ بدتمیزی اختیار کر رہا ہے، بدکلامی اختیار کر رہا ہے، بد خلقی اختیار کر رہا ہے، بیوی اس کے خلاف نشوز کر رہی ہے اور باغیانہ رونہ اختیار کرتی ہے اگر وہ زیادہ جابر ہے تو اس کی عدم موجودگی میں بچوں کے کان ان کے باپ کے خلاف بھرتی ہے اور اپنی مظلومی کا رونا اپنے بچوں کے سامنے رو کر گویا اپنے خاوند کا انتقام لے رہی ہوتی ہے۔ایسے ماحول میں جو بچے پلیں گے وہ دنیا کے اخلاق کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ان کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت صادق آتی ہے: لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ (الانعام: ۱۵۲) تم اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کو قتل کرنے والے ہو ایسا ہر گز نہ کرو۔جب تم خود اپنے ہاتھوں سے اپنی اولا د کو قتل کر رہے ہو تو دنیا کو زندہ کرنے کے دعوے کیسے کر سکتے ہو۔اس لئے بہت ہی اہم بات ہے کہ تمام گھروں میں ہر خاوند اپنی بیوی کے ساتھ حسن معاملگی کرے ، حسن معاشرت کرے، اس کے جذبات کا خیال رکھے، اس سے نرم کلامی کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سلسلے میں بہت ہی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔بار بار اس موضوع پر آپ نے لب بھی کھولے اور قلم بھی اٹھایا اور آپ کے ملفوظات میں بھی یہ مضمون کثرت سے ملتا ہے اور آپ کی تحریروں میں بھی یہ مضمون کثرت سے ملتا ہے۔اس لئے آج کے لئے خصوصیت سے میں نے اس حصے کو اختیار کیا ہے کہ اپنے گھروں میں خاوند اور بیوی کے تعلقات کو درست کریں ورنہ آپ کے بچوں کے اخلاق کی کوئی حفاظت نہیں ہوسکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے پس کوشش کرو