خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 197

خطبات طاہر جلدے 197 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء نہ ہم واپس اپنے ملکوں کو چلے جائیں۔ان کو میں مختلف رنگ میں نصیحت کرتا رہا ہوں اور یہ بھی بات بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ کس ملک میں آپ جائیں گے۔اس ملک میں جائیں گے جسے آپ دس سال پہلے چھوڑ کے آئے تھے۔اس کی اب وہ حالت نہیں رہی جو آپ سمجھ رہے ہیں کہ اس کی ہوگی۔بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے اور کیفیات میں ساری دنیا میں عظیم تبد یلیاں واقع ہو چکی ہیں۔اگر آپ بدیوں کے مقابلے سے بھاگیں گے تو آپ کو آخر پہ پناہ گاہ کوئی دکھائی نہیں دے گی۔کوئی جگہ نہیں ہے جہاں آپ کی حفاظت ہو سکے جہاں آپ سمجھیں کہ آپ محفوظ قلعہ میں پہنچ گئے ہیں۔بدیوں سے مقابلہ ہی ایک طریق ہے زندہ رہنے کا اور اسی کا نام جہاد ہے۔اسی لئے ان معاملات میں بار بار میں لفظ جہاد استعمال کرتا ہوں۔یہ قرآنی تعلیم کے مطابق ہے۔قرآن کریم نے بدیوں سے بچنے کے لئے جہاد کا مضمون ہمارے سامنے رکھا ہے اور یہی حقیقت جہاد ہے، یہی روح جہاد ہے۔اس لئے جس ملک میں ہیں اگر آپ کے پاؤں وہاں سے اکھڑ گئے تو پھر کسی اور ملک میں آپ کے پاؤں نہیں جمیں گے۔بھاگنے والا پھر بھاگتا چلا جاتا ہے اور وہ نہیں تو اس کی اگلی نسلیں مغلوب ہوتی چلی جاتی ہیں۔اس لئے جہاں بھی کوئی احمدی ہے اسے بدیوں کے خلاف جہاد کرنا چاہیئے اور یہ جہاد گھر سے شروع ہونا چاہئے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ آپ بد اخلاقی سے بچنے کا سامان کریں قرآن کریم نے یہی مضمون ہمارے سامنے رکھا ہے۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المومنون : ۹۷) بدیوں سے جہاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے پھر اگھونپ دیا کسی بدی کے سینے میں۔بدی کے خلاف جہاد کا حقیقی معنی یہ ہے کہ آپ اپنے خلاؤں کو پُر کریں اور ان کو نیکیوں سے بھر دیں۔جہاں نیکی داخل ہو جائے وہاں بدی نہیں آسکتی۔جہاں خلا ہے وہاں بدی نے ضرور داخل ہونا ہے اور نیکی کو اپنائے بغیر آپ کسی بدی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔پس اس لئے جب میں حسن خلق کہتا ہوں تو میری یہی مراد ہے کہ اپنے خلاؤں کو پُر کریں، اپنی عادات کو مزین کریں ، حسین بننے کی کوشش کریں، ہر معاملے میں ، خوش گفتاری میں، خوش معاملگی میں جو جو بھی انسان کے انسان سے روابط ہیں ان میں سے ہر رابطے میں اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی کوشش کریں اس کے بغیر نہ آپ بدیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، نہ آپ اس عظیم مقصد کو حاصل