خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 182
خطبات طاہر جلدے 182 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۸۸ء ہیں تو ان کا جھٹلانا اس کی تصدیق ہے۔ ان کا جھٹلانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ سچا ہے۔ اب دوقسم کے لوگ ظاہر ہوتے ہیں ہر دعویدار کے وقت میں ۔ ایک وہ لوگ جو ایمان لے آتے ہیں ایک وہ لوگ جو جھٹلاتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ کیسی پیاری ، کیسی واضح صاف دلیل قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھ دی کہ ایسی صورت میں دعویدار کی سچائی کو اس طرح پر کھا جائے گا کہ اگر اس پر ایمان لانے والے جھوٹے اور بدکردار لوگ ہیں تو پھر ان کا ایمان اس کو جھٹلائے گا۔ ان کی تصدیق کوئی بھی معنی نہیں رکھے گی اور اگر اس کے منکرین جھوٹے ہیں اور بدکردار ہیں اور افترا ان کی زندگی کی عادت ہے تو پھر ان کی تکذیب پر تمہیں کیا تکلیف ہو سکتی ہے ان کی تکذیب تو اس کی تصدیق ہے حقیقت میں کیونکہ جھوٹا جس کو جھٹلائے گا وہ فی الواقعہ دراصل اس کی تصدیق کر رہا ہوتا ہے کیونکہ جھوٹے کی ہر بات جھوٹی ہوتی ہے۔ اس لئے جماعت احمدیہ کو جتنا زیادہ جھٹلایا گیا ہے اتنا ہی ان کے جھوٹ کا مرض ظاہر ہوا ہے اور ساری قوم ہر پہلو سے ننگی ہو کر سامنے آگئی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے جو ایک دوسری جگہ اس مضمون کو بیان فرمایا اس میں یہی بات دراصل ایک اٹل حقیقت کی طور پر پیش کی گئی ہے فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ کہ ان کے دل کی بیماریاں جو پہلے مخفی تھیں خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا کہ وہ بیماریاں کھل کر منظر عام پر آجائیں، سطح پر ظاہر ہو جائیں۔ چنانچہ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا خدا نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا۔ جب مخفی بیماریاں بڑھتی ہیں تو پھر ظاہر ہو جایا کرتی ہیں چھپی نہیں رہ سکتیں۔ فرمایا ان کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے کیونکہ یہ جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان میں جھٹلانے والوں کا دن بدن خود جھوٹا ہوتے چلے جانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصدیق ہے، آپ کی تکذیب نہیں ہے۔ دن بدن ان کا اور گندے ہوتے چلے جانا اس بات کو کھلا کھلا ثابت کر رہا ہے کہ یہ جھٹلانے والے لوگ خدا کی نظر میں سچے نہیں ہو سکتے اگر سچے ہوتے تو ان کو یہ جزانہ ملتی اللہ کی طرف سے کیونکہ جھوٹے کے خلاف جہاد کرنا اس کے خلاف تحریک چلانا یہ خدا کی نظر میں تو ایک بہت ہی پیارا اور مقبول فعل ہونا چاہئے۔ جھوٹوں کے خلاف جو لوگ جہاد کرتے ہیں ، ان کی تکذیب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور دن بدن ان میں زیادہ سچائی کی علامتیں ظاہر فرماتا چلا جاتا ہے۔ اس لئے اگر ایک وقت میں قوم دو حصوں میں بٹ جائے ، ایک ایمان لانے والا اور وہ سچے ہوں، ایک تکذیب کرنے والا حصہ جو جھوٹا بھی ہو اور دن بدن جھوٹ میں بڑھ رہا ر ہے تو پھر کسی میں ادنی سی بھی عقل ہو وہ اس