خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 183

خطبات طاہر جلدے 183 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء کے سوا نتیجہ نکال ہی نہیں سکتا کہ جھوٹے کو ماننے والے بچے نہیں ہو سکتے اور جھوٹے کی تکذیب کرنے والے اگر خود جھوٹے ہیں تو جس کی وہ تکذیب کر رہے ہیں وہ پھر جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اس طرح خدا تعالیٰ ملک میں اس حقیقت کو دن بدن زیادہ کھلا کھلا، زیادہ واضح فرماتا چلا جارہا ہے اور جس یوم فرقان کا میں نے ذکر کیا تھا اس کا اس مضمون سے تعلق ہے۔قرآن کریم جو فر ما تا ہے یوم فرقان، ایک ایسا دن آتا ہے جب کھوٹے اور کھرے میں، جھوٹے اور سچے میں تمیز کر کے دکھائی جاتی ہے۔وہ دن یوں نہیں آجایا کرتا اچانک جس طرح کوئی بلائے ناگہانی واقع ہو جائے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر میں اس کی تیاریاں کی جاتی ہیں اور یہ وہ تیاریاں ہیں جو آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہیں۔آپ کو خدا یوم فرقان کی طرف لے جارہا ہے۔جب خوب بات کھل جاتی ہے اور معاملہ اپی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اس وقت خدا تعالی کی طرف سے پکڑ آیا کرتی ہے وَلَهُمْ عَذَاب الیم کا واقعہ بھی ہو جاتا ہے لیکن مومن کی یعنی اعلیٰ درجہ کے مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ اس عَذَاب الیم کا انتظار کرتار ہے۔مومن کو بصیرت کے ساتھ اور بصارت کے ساتھ ان واقعات کو دیکھ کر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یوم فرقان تو ظاہر ہو گیا۔وہ تو خدا تعالیٰ نے فرق کر کے دکھانا شروع کر دیا ہے۔اب یہ آگے جا کر کس شکل میں خوب کھل کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عذاب پر منتج ہوگا یہ ایک منطقی نتیجہ ہے اس کے لئے صرف وقت کا انتظار ہے مگر ایسی تو میں جو اس نہج پر چل پڑیں ان کے زندہ رہنے کے کوئی امکان نہیں ہوا کرتے۔اس میں کسی مذہبی استدلال کی بھی ضرورت نہیں ہے۔اس قسم کے کردار جو اس وقت بد قسمتی سے ہمارے پیارے وطن میں ظاہر ہورہے ہیں۔یہ کردار تاریخ میں آپ مطالعہ کر کے دیکھیں جب بھی قوموں میں ظاہر ہوئے ہیں ان کو ہلاکت کی طرف لے گئے ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ کو ہلا کتیں دیکھنے کے لئے تماش بین کے طور پر پیدا نہیں کیا گیا۔آپ کو تو ہلاک ہونے والوں کو بچانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔کسی نے کہا ہے کہ :۔نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزہ تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی اگر آپ مئے عرفان کے ساقی ہیں تو گرتوں کو تھا میں اور مرتی ہوئی قوموں کو زندہ کرنے کی کوشش کریں یہ ہے آپ کا مقصد اول اور یہی بچوں کی زندگی کا مقصد ہوا کرتا ہے۔اگر آپ اس مقصد کو بھول جائیں گے تو آپ بھی جھوٹ کی طرف سرکنا شروع ہو جائیں گے۔یہ اعلیٰ مقصد اتنا عظیم مقصد ہے کہ اس کی حفاظت ضروری ہے اور اس کی حفاظت سب سے پہلے آپ کے دلوں میں ہوگی۔اپنے دلوں کو ٹلتے رہا کریں اور سوچیں کے ہمارے دل کس