خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 181

خطبات طاہر جلدے 181 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء پیدا ہو چکی ہوں گی اس ملک میں اس کا تصور کریں۔حکومت خود تسلیم کر چکی ہے بار بار، وہی حکومت جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ ہم اسلام کی حفاظت کی خاطر آئے ہیں اور جب تک ہم اسلام کی خدمت مکمل نہ کر لیں ہم جانے کے لئے تیار نہیں۔وہی سر براہ کھلے بندوں بار بار اعتراف کر چکے ہیں کہ یہ قوم نہ کردار میں مسلمان ہے نہ مسلمان کہلانے کی مستحق باقی رہی ہے۔کسی پہلو سے بھی اس قوم میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں رہی۔گویا یہ مقصد تھا ان کے آنے کا اور ابھی تک یہ فرمایا جارہا ہے کہ ابھی میرا مقصد پورا نہیں ہوا۔وہ آگے کون سے دن دیکھنے باقی ہیں اللہ بہتر جانتا ہے لیکن صورتحال یہی ہے کہ یہ قوم اپنے قول اور اپنے فعل میں جھوٹی ہو چکی ہے اور جھوٹی زیادہ سے زیادہ ہوتی چلی جارہی ہے۔پس وہ احمدی جو یہ لکھتے ہیں کہ بڑے دردناک حالات ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کی جارہی ہے اخباروں میں، کتابوں میں، رسائل میں۔معلموں کی شکل میں اخباروں میں چھپتے ہیں مقمے کے بتاؤ کذاب نبی کون ہے اس زمانے کا اور جو صیح بتائے گا اس کو یہ انعام ملے گا۔اس قسم کے حالات گزر رہے ہیں اور ہمارادل دکھ رہا ہے۔ان کو قرآن کریم پہلے ہی جواب دے چکا ہے۔قرآن کریم ان کو بتا چکا ہے کہ جو مفتری ہوں خود وہ ایمان نہیں لایا کرتے اور جو ایمان نہیں لاتے وہ جھوٹے ہوا کرتے ہیں۔یہ دو جگہ قرآن کریم نے اس آیت میں جھوٹ کا ذکر فرمایا ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔فرمایا إِنَّمَا يَفْتَرِى الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالتِ اللہ وہ لوگ جو افترا کے عادی ہو چکے ہوں، جن کی روز مرہ کی زندگی میں جھوٹے مقدمے بنانا، ایک دوسرے پر جھوٹ گھڑنا، جھوٹی باتیں مشتہر کرنا ان کی زندگی کا ایک جزولاینفک بن چکا ہو، ایسا حصہ بن گیا ہو ان کی زندگی کا جو ان کی زندگی کے مزاج کے طور پر داخل ہو چکا ہے۔فرمایا لَا يُؤْمِنُونَ وہ اللہ کی آیتوں پر کیسے ایمان لائیں گے کیونکہ جھوٹے لوگ سچائی پر ایمان نہیں لایا کرتے۔فرمایا أُولَيْكَ هُمُ الْكَذِبُونَ تمہیں کیوں دکھائی نہیں دیتا کہ یہی لوگ جھوٹے ہیں۔یعنی دو جگہ جھوٹ کا ذکر فرمایا ہے۔پہلے یہ تجزیہ فرمایا گیا کہ ایمان نہ لانے کی اصل بنیاد یہ ہے کہ پہلے جھوٹے ہو چکے ہیں یہ اور جو دل کا سچانہ ہو اس کو خدا تعالیٰ ایمان لانے کی توفیق ہی عطا نہیں فرماتا۔اس کے مزاج کے مطابق نہیں ہوتا ایمان۔اسی لئے جس قوم میں آپ کثرت کے ساتھ افتر اپردازی دیکھیں گے اس کے متعلق یہ توقع رکھنی کہ وہ ایمان لے آئے گی یہ غلط ہے قرآن کریم کی اس ازلی ابدی سچائی کے بیان کے خلاف ہے جو یہاں اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔دوسرے فرمایا کہ یہ بات خود ان کو جھوٹا ثابت کر رہی ہے۔یہ کیوں نہیں تم ان کے سامنے بات رکھتے۔دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ خدا کی طرف سے آنے کا دعویٰ کرنے والا جھٹلایا جارہا ہے اگر جھٹلانے والے جھوٹے