خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 180

خطبات طاہر جلدے 180 لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں اور کئی قسم کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء اس صورتحال پر مستزاد یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ ہتھیار ملک میں پھیل گئے ہیں۔جو امریکن حکومت کی طرف سے افغانستان کے مجاہدین کے نام پر مدددی گئی تھی خود ان کے ماہرین کی طرف سے جور پورٹیں شائع ہوئی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ مجاہدین تک صرف پچیس فیصد ہتھیار پہنچے ہیں اور جہاں تک روپے کا تعلق ہے ان کا خیال ہے کہ اس سے بھی کم روپیہ مجاہدین تک پہنچا ہے اور آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہاں کیا حال ہوا ہوگا۔ایک ایسے ملک میں کیا حال ہوا ہو گا جہاں دو ارب روپے کے بعض ہتھیار بھجوائے گئے اس میں سے پچھتر فیصد ہتھیار ملک کے اندر کہیں ادھر ادھر تقسیم کر دئے گئے۔وہ روپیہ کہاں سے آیا، یہ ڈرگ کے چکر کے ساتھ اس بات کا بھی تعلق ہے اور جو روپیہ امریکہ نے افغانستان کے مجاہدین کے لئے بھجوایاوہ رو پی بھی ملک کے اندرہی تقسیم ہوا ہے اسی روپیہ سے پھر یہ ہتھیار بھی خریدے گئے اور بھی کئی قسم کے ایسے موجبات ہیں جن کے نتیجے میں ملک کے اندر روپیہ بڑھ رہا ہے۔ایک طرف غربت اور فلاکت بھی بڑھ رہی ہے بعض طبقوں میں دوسری طرف روپیہ بھی بہت بڑھ رہا ہے۔چنانچہ آنے والے یہ بھی بتاتے ہیں کہ ساری قوم روپے کے دھندے میں مشغول ہو چکی ہے جس طرح بھی ہو سکے روپیہ کمانا ہے اور بے شمار روپیہ دکھائی دیتا ہے۔ہتھیار کثرت سے ہیں ،شراب کثرت سے ہے اور بداخلاقیاں جن کی تفصیل یہاں خطبہ میں بیان کرنا مناسب نہیں وہ کثرت کے ساتھ ہیں۔جوا ، قمار بازی یہ کثرت سے ہیں اور نمازوں سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اب تعلق گویا ہمیشہ کے لئے ٹوٹ چکا ہے۔جس قوم کا یہ حال ہو وہ مذہبی تحریک کے نتیجے میں کیسے اکسائی جاسکتی ہے۔ان کی دنیا بدل چکی ہے، ان کی دلچسپیاں مختلف ہو چکی ہیں اور ہمارے لئے یہ خوشی کی بات نہیں بلکہ ایک نہایت ہی تکلیف دہ خبر ہے کیونکہ جماعت احمدیہ نے تو سچائی پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے، جماعت احمدیہ نے تو اخلاق کو سدھارنا ہے۔اگر جماعت احمد یہ سچائی اور اخلاق کی علمبردار نہیں تو پھر مذہب کی کوئی بھی حقیقت نہیں اور جتنی قوم جھوٹ کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے اتنا جماعت احمدیہ کی مشکلات بڑھتی چلی جارہی ہیں۔اس لئے ایک طرف بظاہر اطمینان کی صورت ہے کیونکہ ساری قوم جھوٹی ہو چکی ہے، ساری قوم دین سے بیزار ہو چکی ہے، اپنے قول اور اپنے عمل میں پیچھے بہتی چلی جارہی ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو مذہب کے نام پر اس طرح مظالم کا نشانہ بنانے کے لئے عوام تیار نہیں ہے۔یہ صورت بظاہر مطمئن کرنے والی ہے ایک پہلو سے لیکن جس جماعت کا مدعا ، زندگی کا مقصد یہی ہو کہ اس نے دین کو قائم کرنا ہے، اس نے سچائی کو قائم کرنا ہے، اس نے کھوئے ہوئے اخلاق کو دوبارہ حاصل کرنا ہے اور مٹی ہوئی نیکیوں کو دوبارہ اجاگر کرنا ہے اس جماعت کے لئے کتنی بڑی مشکلات