خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 179
خطبات طاہر جلدے 179 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء تو کسی اور جگہ جاؤ احمدی کے گھروں میں تمہیں بوتلیں نہیں ملیں گی لیکن یہ واقعہ اپنی ذات میں بہت ہی خطرناک صورتحال کا مظہر ہے۔یعنی مارشل لاء نے جو اسلام کے نام پر زندگی حاصل کی اس عرصے میں اسلام کو جو نقصان پہنچایا ہے یہ اس کی داستان ہے اور بعد میں جو بھی حکومت ہے وہ کلیہ اس معاملے میں بے بس ہو چکی ہے۔ہے تو وہ سیاسی نام پر مارشل لا نہیں ہے لیکن مارشل لاء کے بہت سے تحفظات اس حکومت کو حاصل ہیں اور خود مارشل لاء ہی کی پیداوار ہے اور انہی طاقتوں نے اس کو قائم رکھا ہوا ہے جو مارشل لاء کے پس پشت تھیں لیکن اس میں طاقت مارشل لاء کے دور سے بہر حال کم ہے اور اصلاح کی طاقت تو بالکل نام و نشان کو بھی نہیں۔بالکل بے بسی کا عالم ہے۔شراب بہت مضر چیز ہے یعنی شیطانیت کی طرف لے جانے والا ایک آلہ کار ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اس سے بھی بدتر چیز Drug Abuse ہے یعنی ایسی نشہ آور دوائیں جوز ہر کا حکم رکھتی ہیں وہ صرف روح کو زخمی نہیں کرتی بلکہ جسم کو بھی زخمی کرتی ہیں، دماغ کو بھی زخمی کرتی ہیں، انسان کا کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتیں۔اس کے متعلق اطلاعیں مل رہی ہیں کہ پاکستان میں اس قدر ڈرگز پھیل گئی ہیں سکولوں میں، کالجوں میں ، یو نیورسٹیوں میں، گلیوں میں ، مزدوروں میں، آجروں میں، اجیروں میں ہر جگہ یہ ڈرگز کی وبا پھیل گئی ہے اور ارب ہا ارب روپے کی تجارت ہے جواسی پر مبنی ہے۔اتنے کثرت سے ڈرگ کے مریض وہاں بڑھتے چلے جارہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں اسی نسبت سے جرائم بھی بڑھ رہے ہیں کیونکہ ڈرگ کے عادی کو جب ایک دفعہ عادی بنا دیا جاتا ہے اس کے بعد انہی دواؤاں کو جو پہلے نسبتا کم قیمت پر اس کو دی جاتی ہیں بعد میں زیادہ دام وصول کئے جاتے ہیں۔یہ ہے بنیادی اس ریکٹ کا راز۔یعنی پہلے ایک آدمی کو مفت بھی دے دیتے ہیں ڈرگ اس کے بعد جب اس کو اس کا مزہ پڑتا ہے تو اس کو تھوڑی سی قیمت وصول کرنی شروع کر دیتے ہیں۔پھر جوں جوں وہ عادی اور مجبور ہوتا چلا جاتا ہے اس سے زیادہ پیسوں کا مطالبہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ بہت سے ایسے واقعات جو احمدیوں کے علم میں ہیں جو مجھے بتاتے ہیں ان میں سے اس قسم کے بھی نہایت ذلیل اور خوفناک واقعات ہیں کہ ایک لڑکے کوڈرگ کی عادت پڑی ہے وہ پیسے نہ ہونے کے نتیجے میں شروع میں تو گھر سے مانگ کر لے جاتا رہا پھر اس نے اپنی ماں کو مارنا شروع کیا اور جب بھی ضرورت پڑتی تھی ماں کے اوپر ظلم کر کے اس سے پیسے اگلوا تا تھا۔یہاں تک کہ پھر گھر کی چوریاں بھی شروع کیں زیور بیچ دیئے ، دوسری چیزیں اٹھائیں اور چرائیں اور جس حد تک بھی اس کے بس میں تھا ہر قسم کی شیطانی حرکتیں کر کے اس نے اپنی اس طلب کو پورا کرنے کی کوشش کی۔اور یہ واقعات ایک دو نہیں ہیں کثرت کے ساتھ سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور گھر پر جب مظالم کے بعد گھروں میں کچھ باقی نہیں رہتا تو یہی لوگ پھر چورا چکے بنتے ہیں،