خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 169

خطبات طاہر جلدے 169 خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ۱۹۸۸ء کرنے کے لئے تم نے کچھ کام نہیں کیا اور جو کچھ تمہیں مہیا تھا اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔چنانچہ مجھے بار بار شکائتیں ملیں افریقہ میں خصوصیت سے کہ ہم تک آپ کے خطبات پہنچتے ہی نہیں۔آسانی سے ان کے ترجمے ہو سکتے ہیں اگر ہم تک پہنچیں جس طرح آپ ہمیں اب باتیں سمجھا رہے ہیں تو ہماری اور کیفیت ہوتی۔ہمیں صرف رسمی اطلاع ملتی ہے یا خلاصہ ملتا ہے اس سے وہ بات پیدا نہیں ہوتی دل میں اور دل کی تحریک کا باہمی محبت کے ساتھ ایک تعلق ہے جو یک طرفہ نہیں ہے دو طرفہ ہے۔عہدیداران جماعت کے ساتھ جماعت بڑے احترام کا تعلق رکھتی ہے اور بعض صورتوں میں امراء سے بڑی محبت بھی کرتی ہے لیکن یہ خیال کر لینا کہ خلیفہ وقت اور جماعت کے درمیان جو محبت کا تعلق ہے بعینہ وہی چیز ہر عہدیدار اور جماعت کے درمیان ہے یہ غلط ہے۔اکثر صورتوں میں تو عشر عشیر بھی نہیں ہے۔یہ ایک ایسا نظام ہے دنیا میں جس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔کوئی دنیا میں مذہبی ہو یا غیر مذہبی لیڈر ایسا نہیں جیسا خلیفہ امیج جماعت احمدیہ کے اندر جو خلیفہ ہے وہ اور اس کے متبعین کے ساتھ یا اس جماعت کے ساتھ جس نے اس کو قبول کیا خلیفہ کے طور پر ان کے درمیان جو تعلق ہے۔یہ تعلق بے مثال ہے اس کی کوئی نظیر دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔اپنے تو خود د جانتے ہیں غیروں کی نظر بھی پڑتی ہے اور حیرت کے ساتھ اس بات پر نظر پڑتی ہے۔اس لئے جس قربانی کا دل سے تعلق ہے اس آواز پر وہ دل بہت جلدی لبیک کہے گا جس آواز سے اس کو محبت ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ تحریک کرنے والا مجھ سے محبت رکھتا ہے۔یہ جو رشتہ ہے باہمی محبت اور پیار کا اس کے نتیجے میں تحریک میں غیر معمولی برکت پیدا ہوتی ہے، مردہ دلوں میں جان پڑ جاتی ہے اس سے اور وہی آواز کوئی اور پہنچارہا ہے تو وہ اس حد تک نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی جتنی خلیفہ وقت کی آواز ان معاملات میں نتیجہ خیز ہوتی ہے۔چنانچہ اس سے استفادہ نہیں پوری طرح کیا گیا۔یہی ہے اب ہمارے لئے رستہ کے تمام جماعتیں ان کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں اور فہرستیں بنا ئیں ان خطبات کی جو مختلف تحریکات سے تعلق رکھتے ہیں۔جہاں ان کے ترجمے کرانے کی ضرورت ہے وہاں ان کے ترجمے کروائے جائیں اور آغاز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت تک یا چند ایک اور کلمات خلیفہ وقت کی اپنی آواز میں سنا کر پھر اس کے ترجمے سنائے جاسکتے ہیں کیونکہ اگر ساتھ ساتھ آواز بھی ہو اور ترجمہ بھی ہوتو پھر بہت لمبا وقت