خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 168

خطبات طاہر جلدے 168 خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ۱۹۸۸ء تو جہاں بھی دعاؤں میں کمی دیکھی گئی ہے وہاں کام کے نتائج میں ایک لازمی کمی خود بخود واقع ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ ان کو رابطہ رکھنا چاہئے خلیفہ وقت سے بھی۔اپنے لئے دعا کے لئے لکھنا چاہئے۔ایک تو خلیفہ وقت کو معلوم ہوگا کہ وہ کیا کام کر رہے ہیں ان کے لئے پھر دعا کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔نہ صرف تحریک کے لئے بلکہ اس شخص کے لئے جو یہ کام کر رہا ہے بے چین ہے اس کے لئے اور چاہتا ہے کہ اس کو اچھا پھل ملے اور دوسرا اس کی نظر میں سب کچھ رہتا ہے کہ ساری دنیا میں اس وقت کہاں کیا ہو رہا ہے، کونسی کمی واقع ہوئی ہے، کس قسم کی ضرورتیں در پیش ہیں اور وہ جو دعا کے لئے خط لکھتا ہے اپنے مسائل بھی بیان کرتا ہے۔ان مسائل کو حل کرنے میں اس کو خلیفہ وقت سے براہ راست دعا کے علاوہ بھی مددملتی ہے۔وہ نظام جماعت کو حرکت میں لاتا ہے۔جن لوگوں کی طرف سے غفلت ہو رہی ہے ان کو متوجہ کرتا ہے۔جو اچھی قربانی کرنے والے ہیں ان سے رابطہ کرتا ہے، ان کے لئے دعا کرتا ہے، ان کو جو کمزور ہیں ان کو بعض دفعہ سیکرٹری کو پتا بھی نہیں ہوتا وہ براہ راست خط لکھ کر خلیفہ وقت ان کو اپنی محبت اور پیار سے متوجہ کرتا ہے اور اس پہلو سے ان کے اندر بڑی نمایاں اور پاکیزہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو عام کوششوں سے نہیں ہوسکتی۔تو اس بارے میں بھی جن لوگوں نے غفلت کی ہے وہ نسبتا محروم رہے ہیں فوائد سے۔پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا خلیفتہ مسیح کی آواز میں اگر بات پہنچائی جائے تو اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے اور یہ کہہ دینا کہ ہم نے خلاصہ پیش کر دیا یا ہم نے یاد کرا دیا یہ ہرگز کافی نہیں ہے۔بنیادی بات یہ ہے کہ ہمارے تمام چندے دل سے پھوٹتے ہیں دماغ سے نہیں اور دل جب تک متحرک نہیں ہوں گے ان سے کوئی چیز پیدا نہیں ہوگی۔رسمی یاد دہانیاں تو یہ انکم ٹیکس والوں کا کام ہے۔وہ دماغ کو متوجہ کرتے ہیں ان کا دل سے کوئی تعلق نہیں۔جتنا زیادہ دماغ یہ سمجھے گا کہ ہاں میں پھنس گیا ہوں مجھے دینا ہی دینا ہے نکلنے کا کوئی رستہ نہیں رہا اتنا زیادہ وہ ائم ٹیکس کا نمائندہ کامیاب ہوگا لیکن خدا کی راہ میں مالی قربانیاں خالصہ محبت سے تعلق رکھتی ہیں اور محبت کا مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دل سے ہے خشک رسمی تحریکات سے اس کا کوئی بھی رابطہ نہیں ہے۔چنانچہ بعض لوگ کہتے ہیں جی! ہم نے تو کر دیا ہے جماعت ہی نہیں کچھ کر رہی۔تم نے کچھ کیا ہی نہیں وہم ہے تمہیں کہ تم نے کچھ کر دیا تم نے اطلاع دی ہے ان کو کہ یہ یہ قربانیاں ہیں لیکن وہ سر چشمہ جہاں سے وہ قربانیاں پھوٹنی ہیں اس سر چشمے کو تیار