خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 157
خطبات طاہر جلدے 157 خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ۱۹۸۸ء سب کتب کو، کیا انتظام ہو گا، کس جگہ ان کو سمیٹا جائے گا ،سنبھالا جائے گا، وہ مشینری کیا ہے جو چارج لے گی اس وقت کیونکہ امراء کے پاس تو ممکن ہی نہ ہے اتنا وقت ہو یا ان میں اتنی استطاعت ہو کہ ذاتی طور پر یہ سارا کام سمیٹ سکیں۔ابھی سے ان پتہ جات کو مہیا کرنے کا اور مرتب کرنے کا کام ہونا چاہئے جن تک یہ چیزیں تقسیم ہوں گی۔اس کے علاوہ بعض ممالک بعض دوسری کتب اور اشتہارات کی تقسیم کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔پھر اسی طرح مرکزی طور پر بھی صد سالہ اظہار تشکر کے سال میں بہت وسیع پیمانے پر دنیا کے نام پیغام بھجوایا جائے گا۔یہ ساری چیزیں اس وقت تو تیاری کے مرحلے پر ہیں لیکن جب تیار ہو کر مختلف ممالک میں پہنچیں گی ایک، دو، دس، ہیں، پچاس پچاس مراکز کے لئے وہ کیسے ان کو سنبھالیں گے کیسے ان کو تقسیم کریں گے اگر پہلے سے تیار نہ ہوں۔کس طرح وہ پتہ جات اس وقت اکٹھے کریں گے پھر ان پتہ جات کے اوپر تقسیم کا کام کیسے شروع ہوگا، کون کتنے حصے کا ذمہ دار ہوگا۔یہ سارے کام بہت زیادہ تفصیلی توجہ کو چاہتے ہیں اور ایسی محنت کو چاہتے ہیں جس میں کئی مہینے لگیں گے۔اس لئے یہ خاموشی بڑی فکر انگیز ہے۔اس وقت تک جس قسم کی ہلچل شروع ہو جانی چاہئے تھی یا بیداری شروع ہو جانی چاہئے تھی وہ ابھی تک شروع نہیں ہوئی اور جن ممالک میں جماعتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی باشعور اور قوی ہیں اپنی عددی قوت کے لحاظ سے بھی وہاں تو خصوصیت کے ساتھ بہت زیادہ کام ہونا باقی ہے اور اسی نسبت سے جتنی ان کو خدا نے عظمت عطا فرمائی ہے اتنی ہی ان پر ذمہ داری بھی پڑنے والی ہے۔تو میں ساری دنیا کی جماعتوں کے امراء کو نہیں بلکہ تمام مجالس عاملہ کو مخاطب ہو کے متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان سب امور کی طرف فوری توجہ شروع کریں۔کثرت سے نو جوان ہیں جواللہ تعالی کے فضل سے اخلاص رکھتے ہیں، جذبہ رکھتے ہیں، خدمت کے شوقین ہیں اور اسی طرح بوڑھے بھی ہیں، بچے بھی ہیں ، خواتین بھی ہیں۔ان میں سے جس حد تک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ احباب جماعت اور خواتین جماعت کو عملی کاموں میں شامل کرنا ہوگا اور یہ عملی کاموں میں ان کی شمولیت ان کے لئے بہت بڑی برکت کا موجب ہوگی۔اگر کام کو ترتیب دے کر تقسیم کیا جائے تو بڑے سے بڑا کام بھی آسان ہو جاتا ہے۔اگر کام کو ترتیب دے کر تقسیم کر لیا جائے تو مالی ذمہ داریاں بھی بہت ہلکی ہو جاتی ہیں اور وقت کے اوپر کام سمٹ جاتا ہے لیکن اگر آپ اچانک سوچیں کہ ہم سب کچھ کر لیں گے تو کبھی