خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 156

خطبات طاہر جلدے 156 خطبہ جمعہ ا ا/ مارچ ۱۹۸۸ء جہاں دس یا پندرہ یا ہمیں یا بعض دفعہ پچاس پچاس مراکز ہوں گے نمائش کے وہاں کم از کم اتنی تعداد میں یہ نسخے بھجوائے جائیں گے۔پھر ایک سو چودہ زبانوں میں قرآن کریم کے منتخبہ حصوں کی طباعت کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آئندہ چند ماہ کے اندر یہ کام بھی مکمل ہو جائے گا۔ان سب کو بھی ہر نمائش میں مہیا کیا جائے گا اور اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں جو ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباً دو ہزار نسخے دنیا کے ایک سو چودہ ممالک میں تقسیم کئے جائیں گے صرف نمائش کی خاطر جو تقسیم کا کام ہے وہ اس کے علاوہ ہے اور جو منتخب آیات کے تراجم ہیں ان کے متعلق فیصلہ یہی ہے کہ وہ اس سال یعنی آئندہ سال جب ہمارا سال تشکر شروع ہو گا اس وقت مفت تقسیم کئے جائیں گے تھے۔پھر ان کے ساتھ احادیث نبوی کا انتخاب ہے جس کو اسی طرح انہی زبانوں میں ترجمہ کر کے تحفہ دنیا کے سامنے پیش کرنا مقصود ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارتوں میں سے اقتباسات ہیں جو کلیۂ قرآن اور حدیث پر ہی مبنی ہیں لیکن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہدایت فرمائی، جو نور بخشا، جو عرفان عطا کیا اس کی رُو سے وہی قرآن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل سے دیکھا جاتا ہے، دل کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے تو ایسا حسن ظاہر ہوتا ہے جو پہلے عام آنکھ سے مخفی ہوتا ہے۔اسی طرح حضرت رسول اکرم ﷺ کی محبت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عشقیہ کلام نظم میں ہو یا نثر میں وہ بھی ایک غیر معمولی مرتبہ رکھتا ہے۔پھر بنی نوع انسان کے لئے جیسی گہری ہمدردی آپ کے دل میں تھی۔کیا چاہتے تھے آپ کیا ہو، کس طرح بنی نوع انسان کے اندر پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہوں وہ کوئی اور بیان کرے تو وہ بات بن نہیں سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے کلام میں جو زندگی ہے، جو قوت ہے اس کا کوئی متبادل نہیں۔تو دنیا اس بات کی حقدار ہے کہ کم سے کم جہاں تک ممکن ہے دنیا کی ہر آبادی میں اس کی زبان تک قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام پہنچ جائے اور جہاں تک ہم نے جائزہ لیا ہے شاذ ہی کوئی ایسا طبقہ باقی ہو گا جس کو صرف ایسی زبان آتی ہو کہ اس میں ہم قرآن کریم اور احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو پیش نہ کر سکیں۔تو یہ تقسیم کا کام بھی اتنابڑا کام ہے اور سب سے پہلے تو یہ ہے کہ ان کو رکھا کہاں جائے گا ان