خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 158

خطبات طاہر جلدے 158 خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ۱۹۸۸ء بھی وہ سب کچھ نہیں ہو سکتا۔بہت بڑی جماعت کی محنت ضائع جائے گی اگر اس کام کو جہاں پہنچانا ہے وہاں پہنچانے کا انتظام نہ کیا گیا۔تو یہ دو پہلو ہیں خصوصیت سے جن کی طرف اب توجہ دینی چاہئے۔ایک ایسے مراکز کا فیصلہ کہاں یہ کتب اکٹھی کی جائیں گی، ان کی حفاظت کا کیا انتظام ہوگا، یہ نقشے ، یہ چارٹس، یہ تصاویر اور یہ ویڈیوز جو تیار ہورہی ہیں ، وہ سلائیڈ ز جو تیار کی جارہی ہیں یہ ساری کس طرح دکھائی جائیں گی ، کہاں کہاں دکھائی جائیں گی ، کیسے سارے ملک میں ان کو اس حد تک پہنچا دیا جائے گا کہ ہر ملک کے حصے کی ان تک رسائی ہو سکے؟ یہ بہت بڑے کام ہیں۔پھر تقسیم کے لئے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دیتی تقسیم کا کیا انتظام ہوگا، ڈاک کے ذریعے تقسیم کا کیا انتظام ہوگا اور ان لوگوں کی فہرستوں کی چھان بین کرنا بھی ایک بہت اہم کام ہے۔آنکھیں بند کر کے کتابوں سے پتے اکٹھے کر لینا تو کوئی کام نہیں ہے اس سے بہت حد تک آپ کی محنت ضائع جاتی ہے۔آپ کو پتا ہی نہیں کس کو بھیج رہے ہیں تو کس طرح پتا چلے گا کہ وہ شخص اس لائق بھی ہے کہ نہیں کہ اس تک پیغام پہنچایا جائے۔اس لئے کچھ حصوں کے متعلق تو ہم جہاں طبقات کی تقسیم کرتے ہیں ان تک تو ان ٹیلی فون ڈائریکٹریز وغیرہ سے یا Whose Who کتابوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے لیکن یہ صرف نمونے کے چند لوگ ہوں گے جن کو آپ بے شک آنکھیں بند کر کے یہ کتب بھجوا دیں یا دوسرا لٹریچر ارسال فرما دیں لیکن جہاں تک تفصیلی فائدہ اٹھانے کا تعلق ہے اس میں ضروری ہے کہ آپ کو پتا ہو کہ کون ہے وہ شخص جس کو آپ کوئی چیز بھجوا رہے ہیں۔اس کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں، اس کے جماعت کی طرف کیار جحانات ہیں اور اس تیاری کا دعوت الی اللہ کے پروگرام کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔جن جماعتوں میں دعوت الی اللہ کا پروگرام اچھا ہو رہا ہے وہاں رابطے بڑھ رہے ہیں۔وہاں اللہ تعالیٰ آنکھوں کو روشنی عطا فرما رہا ہے کون کس قسم کا آدمی ہے، کون اس بات کا حقدار ہے کہ اس کو جماعت کا پیغام براہ راست پہنچایا جائے۔کون قرآن کریم کی عزت کرنے والا ہے ،کون ایک گندہ انسان ہے جس تک اس حالت میں قرآن کریم پیش کرنا مناسب ہی نہیں ہو گا۔بہت سے فیصلے ہیں جن کا انحصار تفصیلی معلومات پر ہے اور یہ کام بھی بڑی محنت کو چاہتا ہے۔اگر آپ باری باری کام شروع کریں تو اس کے لئے تو اگلے پانچ سال بھی کافی نہیں ہوں گے دس سال بھی شائد کافی نہ