خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 141

خطبات طاہر جلدے 141 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء کہ میں نے بیان کیا ہے ان کی تفصیلی داستانیں بیان کرنے کا تو ذکر نہیں سالہا سال پر قربانیاں پھیلی پڑی ہیں۔حکیم فضل الرحمان صاحب ہیں مثلاً دوسرے جن کی قربانیوں سے ہمیشہ ہی میرا دل بہت متاثر رہا ہے اور ایک خاص شان کے وجود تھے۔آپ کو افریقہ میں جب آپ مبلغ مقرر ہوئے تو تنیس سال تک افریقہ میں خدمت کی توفیق ملی اور جس علاقے میں خصوصیت سے انہوں نے تبلیغ ہے وہاں آج تک جماعت کا غیروں پر بہت ہی اچھا اثر ہے۔بے حد محبت پائی جاتی ہے ان میں بہت زیادہ احسان مندی کا جذبہ ہے اور نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ جماعت کے ساتھ خاص تعلق رکھتے ہیں اور یہ تعلق ایک دو دن میں پیدا ہونے والا تعلق نہیں ہے۔بیسیوں سال کے اچھے سلوک کے نتیجے میں قربانیوں کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں میں تبدیلی پیدا فرمائی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی خلافت کے ابتدائی زمانے میں یہ غالباً ۱۹۲۳ء میں گئے تھے۔۱۹۲۳ء میں آپ نے حضرت مصلح موعود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پیش کیا اور غانا سب سے پہلے تشریف لے گئے۔آٹھ سال متواتر تبلیغی جہاد میں مصروف رہنے کے بعد ۱۹۲۹ء میں کچھ عرصے کے لئے واپس آئے شادی ہوئی ڈیڑھ برس شادی رچائی اور ۱۹۳۳ء میں پھر مغربی افریقہ بھیج دیا گیا جہاں مسلسل چودہ سال رہے ہیں اور واپس پھر وطن کا منہ نہیں دیکھا نہ بیوی بچے وہاں جا سکتے تھے۔مجھے یاد ہے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ خطبہ میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جماعت کے پاس پیسے ہی نہیں تھے۔بھجوانے کے پیسے مشکل سے ملے تھے کجا یہ کہ ان کو بلایا جائے بیوی بچوں سے ملنے کے لئے یا بیوی بچوں کو وہاں بھیجا جائے۔چنانچہ ڈیڑھ سال کی شادی کے بعد چودہ سال گویا ساڑھے پندرہ سال آپ رہے ہیں چونکہ شادی بھی افریقہ جانے کی وجہ سے لیٹ ہوئی تھی تو جب واپس پہنچے ہیں ۱۹۴۷ء کے اواخر میں تو آپ بوڑھے ہو چکے تھے۔ان کی بیگم صاحبہ ہمارے گھر میری والدہ کے پاس بہت آیا کرتی تھیں، بہت پیار کا تعلق تھا مجھے یاد ہے ان کی مانگ بھی سفیدہ ہوگئی تھی ، بالوں میں سفیدی آگئی تھی۔جس جوان دلہن کو وہ چھوڑ کر گئے ہیں واپسی پر خود بھی بوڑھے اور اس خاتون کو بھی بوڑھا دیکھا اور بچے کس طرح بڑے ہوئے ہیں اس کا کچھ پتا نہیں۔کوئی ذریعہ نہیں تھا معلوم کرنے کا۔اس زمانے میں خط و کتابت بھی تو بڑی دیر کے بعد ہوا کرتی تھی۔نہ ہوائی جہاز اس طرح چلا کرتے تھے۔سمندری