خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 142

خطبات طاہر جلدے 142 خطبه جمعه ۴/ مارچ ۱۹۸۸ء جہاز بھی بڑا بڑا وقت لیا کرتے تھے۔کوئی بیمار ہوا مرا جیا اس معاملے سے ہمارے مبلغین کا اس زمانے میں کوئی تعلق نہیں تھا۔خدا کی خاطر چلے جاتے اور بھول جایا کرتے تھے پیچھے دنیا کو۔ان کے ساتھ بھی یہی حالات گزرے۔ان کے والد بہت بزرگ صحابی تھی حضرت حافظ نبی بخش صاحب وہ ان کے تبلیغ کے زمانے میں ہی پیچھے دار فانی سے کوچ کر گئے اور کئی قسم کی تبدیلیاں ہوئی لیکن انہوں نے ایک دفعہ مطالبہ نہیں کیا، ایک دفعہ شکوہ نہیں کیا۔حضرت مصلح موعود کو یہ نہیں لکھا کہ آپ نے مجھے کس حال میں چھوڑ دیا ہے میں بھی آخر انسان ہوں میرا بھی دل ہے، میری بیوی بچے بھی ہیں اور اتنے تھوڑے عرصے کے بعد اب مجھے بھیج دیا گیا ہے اور پوچھا ہی نہیں کہ دوبارہ واپس بلا نا بھی ہے کہ نہیں۔ان حالات میں ان لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔اس لئے یہ خیال کر لینا کہ یہ جو واقعات ہیں جو آج ہم نے دیکھے ہیں یہ اتفاقا رونما ہوئے ہیں یا بعد کی نسلوں کی وجہ سے یہ باتیں پیدا ہوئیں یہ بالکل جھوٹ ہے۔خدا یہ عظیم الشان تغیر پیدا کیا کرتا ہے انسان کے ذریعے نہیں ہوا کرتے اور اللہ تعالیٰ دلوں پر نظر رکھتا ہے، تقویٰ پر نظر رکھتا ہے، قربانیوں کی روح پر نظر رکھتا ہے۔ایک دیوانہ خدا کی راہ میں نکل کھڑا ہو جس کا دل پاک اور صاف ہو اور خدا کی رضا کی خاطر وہ سب کچھ لٹا دینے کے لئے تیار ہو اس میں عظیم الشان انقلابی طاقتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور لاکھوں کروڑوں اگر اس جذبے سے عاری ہوں ، اس تقویٰ کے معیار سے عاری ہوں تو ان کی کوششوں سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ وہ ایک تھے جنہوں نے ساری دنیا کو تبدیل کرنا تھا۔ان کے اندر یہ صفات پائی جاتی تھیں تبھی خدا نے ان کو چنا تھا۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا انتخاب وھی تو ہے لیکن بغیر وجہ کے نہیں۔ہے تو تحفہ ہی خدا کا لیکن اس تھنے کے اندر گہری حکمت پائی جاتی ہے۔آپ کے اندر وہ عظیم الشان تقوی، وہ عظیم الشان اخلاص ، وہ عظیم الشان اور بے نظیر فدائیت کی روح تھی اپنے رب کی خاطر جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی نظر نے جانچا تھا کہ یہ شخص ساری دنیا میں انقلاب بر پا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور وہی انقلاب ہے جو اب دوسری شکل میں احمدیت کی صورت میں صلى الله ظاہر ہونا شروع ہوا ہے۔تو اس لئے حضرت محمد مصطفی ماہ کی مثال سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ آج جبکہ مسلمان کروڑہا کی تعداد میں ایک ارب کی تعداد میں پہنچ گئے ہیں ان کی مجموعی طاقت وہ کام نہیں کر سکتی جو رسول کریم ﷺ کی انفرادی طاقت نے کر دکھانے تھے اور کر کے دکھائے۔سارے عرب میں