خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 140
خطبات طاہر جلدے 140 خطبه جمعه ۴/ مارچ ۱۹۸۸ء ان سے کہہ دیں کہ یہاں احمدی مبلغ کو کنوئیں کا پانی بھی میسر نہیں آتا اور اسے بعض دفعہ پیاس بجھانے کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں۔“ واقعہ یہ ہے کہ ابھی بھی وہاں پانی کی بڑی تنگی ہے اور بعض دفعہ اتنا گندہ پانی ہوتا ہے کہ جو نیا جانے والا ہے وہ اگر پی لے تو شدید بیماریوں کا شکار ہو جائے۔تو اس زمانے میں بھی یہ تکلیف تھی بلکہ بہت زیادہ تھی آج سے۔یہ نہ سمجھیں کہ یہ آرام سے گئے ہیں اور ادھر انہوں نے آواز دی ادھر ہزار ہا لوگ احمدی ہونے شروع ہو گئے گویا کہ کہانی کی کتاب پڑھ رہے ہیں آپ۔یہ انقلاب بڑی شدید تکلیفوں میں سے گزر کر بر پا ہوا کرتے ہیں۔چنانچہ پھر وہ لکھتے ہیں : اور جوگھوڑوں، بگھیوں ،موٹروں اور بیل گاڑیوں پر پھرتے ہیں ان سے کہہ دیں کہ یہاں داعی اسلام کو گھنے جنگلوں سے پیدل گزرنا پڑتا ہے۔“ اور وہاں کے جنگل جس نے دیکھے آج کل تو بہت کم جگہ رہ گئی ہے گھنے جنگلوں کی مگر پرانے زمانے میں تو اکثر جگہ ان ملکوں کی جنگل ہی تھا۔وہاں تو پیدل گزرنا ہی ایک امتحان ہے اور نہایت خطر ناک قسم کے جراثیم ، کیڑے مکوڑے، جنگلی جانور اور کانٹے اتنا خطرناک گھنا جنگل ہوتا ہے کہ اس کی زمین نے سالہا سال سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی ہوتی اور وہاں گزرنے کے لئے کوئی ایسے اوزار چاہئیں کہ انسان کاٹ کے بعض دفعہ رستے بنائے خود ورنہ گزر ہی نہیں سکتا ناممکن ہے۔ایک دیوار کی طرح جنگل کھڑا ہوتا ہے سامنے۔تو ان میں سے گزرنا پڑا ہے ان کو یہ نہ سمجھیں کہ بڑی آسانی کے ساتھ یہ انقلاب برپا ہوا ہے۔وو وہ جو دودھ گھی وغیرہ سے تیار شدہ مٹھائیاں استعمال کرتے ہیں ان کو بتلائیں کے خادم احمدیت کے لئے یہ چیزیں خواب ہیں کیوں؟“ میں بتارہا ہوں یہ لکھتے ہیں اس لئے نہیں کہ میں گویا اپنا احسان تم پر ظاہر کر رہا ہوں اس لئے کر محض اللہ کی خاطر اس کے رسول کی خاطر حفاظت اور اشاعت اسلام کی خاطر ایک احمدی مبلغ یہ سب چیزیں برداشت کرتا ہے۔تو بڑے بھاری عزم کی ضرورت تھی اس وقت، بڑی غیر معمولی فدائیت اور عشق کی ضرورت تھی اور اس عشق کے نمونے جماعت احمدیہ نے اس زمانے میں کثرت سے پیش کئے ہیں۔ان کا جیسا