خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 122
خطبات طاہر جلدے 122 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء مطلب یہ ہے کہ کوئی کو نہ دنیا کا ایسا نہیں رہے گا۔ جہاں اس بد تہذیب کے اثرات کسی نہ کسی رنگ میں نہ پہنچے ہوں ۔ چونکہ دجال کو قتل کرنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپرد ہے اور پیش گوئیوں میں ہمیشہ سے یہی مقدر تھا۔ اس لیے یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اکیلے کے سپر د ہے۔ آپ سب کے، ہم سب کے سپرد ہے۔ اس لیے مغربی معاشرے کے خلاف ہمیں ایک عالمی جہاد کرنا چاہئے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بچپن سے ہوگا ، بچپن کے بعد Late ہو جاتے ہیں آپ بہت سے بچے میں نے ضائع ہوتے دیکھے ہیں۔ جہاں بچے بڑے ہو جائیں وہاں اُن کو پھر کم سے کم اتنا تو کریں کہ ان کو خدام الاحمدیہ کہ سپرد کریں اور بچیاں ہیں تو اُن کو لجنہ کے سپرد کریں۔ جو ماں باپ اپنے بچوں کو جماعت کی تنظیموں کے سپرد کر دیں اُن کے لئے بھی پھر امکان رہتا ہے کہ وہ بچے بچ جائیں گے لیکن جو نہ خود تر بیت کرتے ہیں نہ اُن کو تنظیموں کا مطیع بناتے ہیں۔ نہ تنظیموں سے اُن کی وابستگی پیدا کرتے ہیں بلکہ یوں سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے تو تنظیموں سے بالا ہیں، کوئی ضرورت نہیں خدام الاحمدیہ کا یہ قائد پتا نہیں کیا حیثیت رکھتا ہے، زعیم کیسا ہے، فضول اجلاس ہیں ، وقت ضائع ہوتا ہے۔ بچے تعلیم کیوں نہ حاصل کریں، پی ٹی کیوں نہ کھیلیں فلاں بات میں کیوں نہ مغز ماری کریں جس سے ان کا مستقبل بن سکے۔ اس قسم کے خیالات کہیں یا نہ کہیں میں جانتا ہوں انسانی فطرت میں پیدا ہوتے رہتے ہیں تو جو بڑے ہو کر بچانے کا زمانہ ہے اُس سے ؟ اسے بھی وہ غفلت کر جاتے ہیں۔ اس لیے میں امید رکھتا ہوں کہ ساری دنیا میں جماعتیں ان دونوں امور کی طرف متوجہ ہوں گی اور افریقہ میں خصوصیت کے ساتھ اتھ جیسا کہ میں دیکھ کے آیا ہوں خدام الاحمد یہ اللہ کے فضل سے ان معام اسے ان معاملوں میں بڑی مستعد ہو چکی ہے اور اس سے پہلے دور میں خدام الاحمدیہ نے ایسا کردار ادا نہیں کیا تھا جواب کر رہی ہے اور ایسے اچھے مستعد خدام ہیں اُن کے متعلق پھر انشاء اللہ میں ذکر کروں گا۔ تو میں امید رکھتا ہوں کہ افریقہ کے حالات تو اب جلد جلد بدلیں گے، ساری دنیا کی جماعتوں کو چاہئے کہ اپنے لیے بھی جہاں دعائیں کرتے ہیں۔ خصوصیت سے افریقہ کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ میرا دل جانے سے پہلے بھی اس یقین سے بھرا ہوا تھا لیکن اب تو بہت ہی زیادہ میں اس معاملے میں پورا مستحکم یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کی تقدیر کا فیصلہ اسلام کے مقابل پر ہار جیت کا فیصلہ یقینا اسلام کی جیت ہو گی افریقہ میں ہو گا۔ افریقہ میں وہ پہلا انقلاب برپا ہو گا جس کے نتیجے میں دنیا اسلام کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو