خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 123

123 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء خطبات طاہر جلدے جائے گی۔اس لیے دنیا کی ساری جماعتوں کو خصوصیت سے افریقہ کو اپنی دعاؤں میں یا درکھنا چاہئے۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: سفر کے دوران بہت سے ایسے احباب فوت ہوئے یا خواتین فوت ہوئیں جن کے بزرگوں اور تعلق رکھنے والوں نے نماز جنازہ غائب کی درخواست کی تھی لیکن سفر کے دوران وہ وقت پر پہنچی نہیں درخواستیں۔اب یہ ایک فہرست ہے ۶ امرحومین کی جن کی نماز جنازہ غائب نماز عصر کی نماز کے معابعد ہوگی۔قمر الحق صاحب ابن شیخ نور الحق صاحب بجلی کے پول سے کرنٹ لگنے کے نتیجے میں ۲۲ سال کی عمر میں موقع پر وفات پاگئے۔یہ ربوہ کے ہیں نور الحق صاحب کافی معروف آدمی ہیں۔مکرم عبداللطیف صاحب ظہور مرحوم موصی تھے لاہور میں وفات ہوئی۔مکرمہ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد صبغتہ اللہ آف بنگلور محمد صبغتہ اللہ صاحب خدا کے فضل سے بہت ہی فدائی احمدی بار ہا کئی کئی مہینے تک وقف کیلئے لندن تشریف لاتے رہے اور بہت انہوں نے محنت سے کام کیا ہے یہاں آکر آنریری ورکرز میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے ان کی اہلیہ کچھ عرصہ سے بیمار تھیں وفات پاگئیں ہیں۔بنگلور سے اپنے خرچ پر آتے رہے ہیں ہر سال آکر مسلسل دو چار مہینے ٹھہر کے خدمت دین کر کے واپس چلے جاتے رہے کچھ نہیں دیکھا اور انگلستان کا صرف آئے اور لندن کی مسجد میں بیٹھے کام کیا، واپس چلے گئے۔مکرم چوہدری اسماعیل صاحب چک نمبر ۴۵ مر ضلع شیخوپورہ مکرم ستار محمد صاحب میرا بھڑ کا آزاد کشمیر ہمارے مبلغ سلسلہ فضل احمد شاہد رکن شعبہ تاریخ کے والد تھے۔مکرمہ سلیمہ بیگم صاحبہ آف کلاس والا ہمکر مہ ممتاز بیگم آف شکاگو،مکر مہ راجہ غلام مرتضی نصیرہ، مکرم چوہدری عبداللہ خان صاحب واہلہ چک ۴۵ جنوبی مکرمہ رفیعہ بیگم اہلیہ مد یوسف بھٹی صاحب عبداللہ پور فیصل آباد، کرمہ طیفاں بی بی صاحبہ اہلیہ محترم برکت اللہ صاحب یہ مرحومہ نعیم الدین صاحب اسیر راہ مولی کی پھوپھی تھیں، کرمہ رضیہ بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا یعقوب بیگ مرحوم هم ، مرزا اسلم بیگ صاحب کی والدہ مکرمہ فاطمہ بیگم صاحبہ، مکرم محمد نواز صاحب معلم وقف جدید کی خوشدامن، مکرم منظور احمد صاحب شکرانی بستی شکرانی بہاولپور، مکرمہ لمتہ الحمید فنی صاحبہ یہ ہمارے پروفیسر عبدالرشید فنی صاحب کی صاحبزادی بالکل جوانی میں بچے کی پیدائش کے سلسلہ میں آپریشن ہوا اس وقت وفات پاگئیں۔بشری خانم صاحبہ بنت چوہدری یوسف علی صاحب دارالرحمت شرقی۔ان سب کی نماز جنازہ غائب عصر کی نماز کے معأبعد ہوگی۔جانگھ