خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 120
خطبات طاہر جلدے 120 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء ہے اور ہمارے مبلغین کو چاہئے کہ بچپن سے عصمت کی حفاظت اور عصمت کی جو خدا تعالیٰ نے ایک صفت عطا کی ہے عورت کو اُس کی عظمت دلوں میں پیدا کرنے کے لیے وہاں کوشش کریں اور یہی مضمون بعض دنیا کی باہر کی آبادیوں پر بھی اطلاق پاتا ہے۔انکی بے حیائی ہر جگہ پھیل رہی ہے یورپ میں کم تو نہیں بے حیائی اب اور بلکہ دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے۔ہمارے بھی بچے بچیاں غیر معاشرے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں۔اس لیے افریقہ سے بات میں نے حاصل کی لیکن وہ اطلاق دنیا میں ہر جگہ پا رہی ہے۔خود ہندوستان اور پاکستان میں معاشرہ بڑی تیزی سے تباہ ہو رہا ہے تو جیسا کہ وہاں ہمیں ضرورت ان برائیوں کے خلاف علم جہاد بلند کریں، باقی دنیا میں بھی اس سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔جو آپ افریقہ میں دیکھ رہے ہیں وہ اس لیے وہاں زیادہ نظر آتا ہے کہ وہ لوگ بہت سادہ فطرت کے لوگ ہیں اپنی بدی کو چھپانا جانتے ہی نہیں بالکل کھلم کھلا وہ بے تکلفی سے بیان کرتے ہیں۔خطوں میں بھی بعض دفعہ مجھ سے بات کرتے ہیں تب تو حیرت ہوتی ہے دیکھ کر کس طرح سادگی کے ساتھ ، صاف گوئی کے ساتھ وہ اپنی باتیں بیان کرتے ہیں۔باقی دنیا میں کہیں تہذیب کے نام پر، کہیں کچھ اور روایتیں ایسی چل پڑی ہیں جن کی وجہ سے بہت زیادہ اپنی حالت پر پردہ ڈالنے کی عادت ہے۔اسلام بھی یہی کہتا ہے کہ اپنی برائیوں کو خود بیان نہ کر واس میں کوئی شک نہیں لیکن جب حد سے زیادہ یہ بات پیدا ہو جائے تو پھر وہ منافقت کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔اس لیے یہ خرابیاں دنیا میں ہر جگہ ہیں یہ خیال کر لینا کہ صرف افریقہ میں ہیں یہ غلط نہی ہے۔ان کے متعلق ساری دنیا کی جماعتوں کو کوشش کرنی چاہئے اور یہ کوشش جوانی کے بعد ممکن نہیں ہو گی۔جب بچے آپ کے جوان ہو جائیں پھر آپ ہزار کوشش کریں بعض دفعہ وہ آپ کے ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں پھر وہ آپ کی بات نہیں سنیں گے۔اُس وقت تو اپنے جذبات میں مغلوب ہو چکے ہوتے ہیں۔اگر آپ بچپن سے ایک تربیت کا پروگرام بنا ئیں اور بچپن سے اُن کو بتائیں کہ یہ سب گند ہے، بے معنی چیزیں ہیں ، آخر کا ر انسان کی روح کو تباہ کرنے والی ہیں، اللہ تعالیٰ سے محبت میں کمی پیدا کرنے والی ہیں۔ماں باپ اگر بچپن سے تربیت کریں تو وہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو اپنے گرد خود وہ فصیل کھڑی کر لیتے ہیں جس کے ساتھ وہ ہمیشہ معاشرے کے مقابل پر محفوظ رہتے ہیں۔ورنہ ماں باپ کے لیے یا مبلغین کے لیے ممکن ہی نہیں ہے کہ ہر دفعہ جوان لڑکوں کے ساتھ یالڑکیوں کے