خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 119

خطبات طاہر جلدے 119 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء نہیں حکومت کی کہ اُن معاملات میں دخل دے سکے۔تو خدام چونکہ جماعت احمدیہ کی طرف سے اللہ کے فضل سے بہت Active ہیں۔وہاں انہوں نے ٹولیاں بنائیں تا کہ اس ظلم کے خلاف لوگوں کو بچائیں اور دیکھیں کوئی شرارت کر رہا ہے تو اسے روکیں۔تو بڑی دلیری کے ساتھ ٹولیاں بنا کہ شہر میں پھر رہے تھے تو پتا لگا ایک اُن میں سے ایک نیا ہوا احمدی بھی ایک داؤ لے کے کھڑا تھا کہیں چھپ کے لوگوں کو مارنے کے لیے۔انھوں نے اُس سے کہا تم احمدی ہو کہ یہ حرکت کر رہے ہو۔وہ بیچارا اتنانیانیا غیر تربیت یافتہ تھا کہ وہ اس کو جرم سمجھ ہی نہیں رہا تھا۔اُن سے بحث کر رہا تھا کہ اس میں کیا ہے یہ تو ضروری ہے رسم ہے ایک۔چنانچہ انھوں نے زبر دستی اُس کو پکڑ کے قید کر دیا اور جب تک وہ چیف دفن نہیں ہو گیا تھا سر کٹنے بند نہیں ہو گئے اُس کو نہیں چھوڑا انھوں نے۔تو اس قدر جہالت کی باتیں موجود ہیں اور عیسائیت نے اُسے پوری طرح اُس سے بے پروائی کی ہے۔اس لیے کہ ان کو تو روحوں کی آزادی کے بجائے روحوں کی غلامی پیش نظر تھی۔وہ تو چاہتے تھے کہ Colonializm کے تابع ان کو ہر لحاظ سے جکڑ دیا جائے اور اس کی طرف کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ ان کا کردار کیا رہتا ہے۔اُن کے اندر بے حیائی بڑھتی ہے یا کم ہوتی ہے۔اس پہلو سے جب میں نے مزید جائزہ لیا تو یہ مجھے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ موجودہ دور میں اُن کی اکثر جنسی بے راہ روی پرانے افریقہ کی روایت نہیں ہے بلکہ عیسائی جو Colonializm کے ساتھ عیسائیت گئی تھی اور مغربی تہذیب گئی تھی اُس کا ورثہ ہے۔انھوں نے وہاں آزادی کے نام پر بے حیائی پیدا کی حالانکہ پرانے افریقہ میں اپنی لڑکیوں کی عصمت کی حفاظت کی طرف غیر معمولی توجہ دی جایا کرتی تھی۔آپ پرانے افریقہ کی تاریخ پڑھیں میں نے بعض اُن کے اپنے افریقن سکالرز کی کتابیں پڑھی ہیں اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں جو بعض بدر میں عورت کے ختنے کی اس قسم کی جاری ہوئیں اُس کے پیش نظر یہ بات تھی کہ عورت کی عصمت کی حفاظت ہو اور اس معاملے میں بڑی غیرت رکھتے تھے۔لیکن مغربی تہذیب جو عیسائیت کے ساتھ ساتھ وہاں پہنچی ہے اُس نے وہاں عیسائیت کے نام پر ایک آزادی دی اور اُس آزادی کے ساتھ جنسی آزادی کا بھی اعلان ہو گیا گویا جو مرضی کرو کوئی فرق نہیں پڑتا۔چنانچہ اکثر بے حیائیاں اُن کو مغربی تہذیب نے عطا کی ہوئی ہیں لیکن احمدی اللہ کے فضل سے اس کے مقابل پر بڑی جد وجہد کر رہے ہیں۔میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے ابھی بہت ہی محنت کی اور ضرورت