خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 107

خطبات طاہر جلدے 107 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء دوسرے کونے میں بسنے والے احمدی کا ہوگا اور اس پہلو سے یورپ اور افریقہ اور مشرق کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔اگر یہ فرق باقی رہ جائیں تو اسلام کی عالمی تعلیم عملاً ہمارے کردار میں ظاہر نہیں ہوگی اور جس خدائے واحد کی ہم پرستش کرتے ہیں اس کا پر تو ہماری زندگی پر ایسا یکسانیت سے نہیں پڑے گا کہ اس کے نتیجے میں ہم زمین پر خدا کی تو حید کو ظاہر کرنے والے ہوں اور امت واحدہ بن کر خدا کی تو حید کو عملاً دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوں۔یہ وہ مقصد تھا جس کے پیش نظر وہ خطبات دیئے گئے لیکن ان میں بھی مجھے محسوس ہوا الا ماشا اللہ بعض مربیان اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور جماعت کی تربیت بھی انہوں نے بہت اچھی کی ہے لیکن اکثر حصوں میں یہ خلا محسوس ہوا اور یہ خلا یورپ میں بھی موجود ہے کئی جگہ اور زبان کی دقت اس کام کی راہ میں حائل ہوتی رہی ہے۔یعنی اچھا ترجمہ کرنے والے ساتھ ساتھ خطبات کا ترجمہ کر کے ساری جماعت کو پہنچائیں ان کا یہاں فقدان ہے یا کمی ہے لیکن جہاں تک افریقہ کا تعلق ہے وہاں یہ روک بہر حال نہیں ہے کیونکہ میں نے دنیا میں ایسا اچھا ترجمہ کرنے والے کہیں نہیں دیکھے جیسا افریقن لوگ ترجمہ کرنے کی مہارت رکھتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کو ایسی اعلیٰ ذہنی استعداد میں بخشی ہیں کہ بعض دفعہ مسلسل تیں تھیں چالیس چالیس منٹ تک بغیر روک کے ایک مضمون بیان کیا گیا اور ترجمہ کرنے والے نے مسلسل بغیر کسی روک کے اور بغیر کسی تعطل کے درمیان میں خلا ڈالے بغیر وہ ترجمے کو اسی طرز پہ بیان کیا ہے، اسی طرح جذبات کے ساتھ ابھرتا بھی تھا، پھر ہلکی آواز جہاں ہونی چاہئے تھی وہاں ہلکی آواز اختیار کرتا تھا۔اس کے جسم کی حرکتیں اس کے انداز سارے بتاتے تھے کہ وہ مضمون میں ڈوب کر مضمون کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور ایسی اعلیٰ جو خدا تعالیٰ نے انکو قابلیت عطا کی ہے شاید ہی دنیا کے کسی کونے میں اس کثرت کے ساتھ کسی کو عطا ہوئی ہو۔معمولی معلمین جن کا زیادہ علم نہیں تھا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی اچھی ترجمانی کرتے تھے کہ باہر میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے علماء بھی ایسی ترجمانی نہیں کر سکتے۔خود ہمارے مبلغین بھی یہاں خود تر جمانی کی کوشش کرتے تھے بعض ان میں سے بہت اچھے بھی تھے لیکن ویسا رنگ پیدا نہیں ہو سکا جیسا عام معلمین مقامی لوگ اپنی زبانوں میں ترجمانی کرتے ہیں اور وہاں زبانیں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں اور ہر زبان میں خطبات کا اور بنیادی امور پر روشنی ڈالنے والی مجالس کی کارگزاری کا ترجمہ ہونا چاہئے اور یہ سب مواد وہاں موجود