خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 108

خطبات طاہر جلدے 108 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء ہے اور ایسے لوگ موجود ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو جامعہ میں پڑھ کر ہمارے مبلغین وہاں گئے ہیں وہ اردو سے براہ راست بہت اچھا ترجمہ کر سکتے ہیں۔اس لیے یہ عذر کہ ترجمہ کرنے کے لیے ہمارے پاس سامان نہیں تھا یہ عذرتو قابل قبول نہیں ہے۔دوسرے وہاں کی جماعتوں کے سامنے جو براہ راست باتیں ہوئیں اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ لوگ اثر کو بہت زیادہ قبول کرنے والے ہیں اور جن امور پر بات انہیں سمجھ آجائے اس پر اس قدر بشاشت سے کھل اٹھتے ہیں اور خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیتے ہیں کہ اتنی روشن دماغ قوم خدا تعالی کے فضل سے وہاں موجود ہے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ Unique ہے دنیا میں اچھی اور قو میں نہیں ہوں گی لیکن روشن دماغی کے لحاظ سے دنیا کی صف اول کی قوموں میں وہ لوگ شمار ہو سکتے ہیں۔جانے سے پہلے جو تاثر دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ افریقہ گویا ایک تاریک براعظم ہے اور بڑی جہالت ہے اور اس لحاظ سے شاید مجھے بات بیان کرنی ان تک پہنچانی مشکل ہو جائے لیکن میں نے تو وہاں بڑی روشنی دیکھی ہے۔احمدیوں میں بھی اور غیر احمدیوں میں بھی ، عام مسلمانوں میں بھی اور عیسائیوں میں بھی ہر لحاظ سے خدا تعالی نے اس قوم کو روشن دماغ بنایا ہے اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کھلے ہیں دماغ کے تعصبات ہوں بھی تو دلیل سننے کے بعد وہ تعصبات فورا دھول کی طرح اڑ جاتے ہیں بہت جلدی تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔اتنا زیادہ کام کا موقع وہاں موجود ہے اور اس تیزی سے اسلام کا نور پھیلا نے کے مواقع موجود ہیں کہ شاید ہی دنیا میں کہیں اور ہوں۔اگر ان لوگوں تک مثلاً گزشتہ دو، تین سال کے خطبے ترتیب کے ساتھ باقاعدہ پہنچائے جاتے تو اس وقت تک ان کی حالت اور ہوتی۔اس ایک مہینے کے اندر اندر ہی اللہ کے فضل سے ان میں اتنی بیداری پیدا ہوئی ہے، اتنی نمایاں روحانی تبدیلی نظر آئی ہے اور بات کو جذب کر کے فوراً اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کے لحاظ سے وہ سمـعـنـا و اطعنا کا عجیب نمونہ ہیں۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالی نے جو ہمیں مواقع عطا فرمائے ہیں اگر ہم ان سے پورا استفادہ کریں تو عظیم الشان انقلاب کے لیے افریقہ میں احمدیت قائم کی جاسکتی ہیں۔اس پہلو سے جب میں نے وہاں جامعہ وغیرہ کا جائزہ لیا تو وہاں بھی علمی لحاظ سے ہمیں کمزوری دکھائی دی جیسا جامعہ کا سٹاف یا عملہ ربوہ میں موجود ہے اس کے عشر عشیر بھی ہم انہیں سر دست علماء وہاں مہیا نہیں کر سکے اور جن حالات میں جامعہ احمدیہ مختلف ممالک میں جاری ہیں بنیادی سہولتوں کے لحاظ سے بھی