خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 106
خطبات طاہر جلدے 106 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء کو تمام افریقہ کے ممالک تک کیسٹس کی صورت میں پہنچانا، پھر ان کا ان سب باتوں کوسننا اور ان سے راہنمائی حاصل کر کے آئندہ کے لیے منصوبے بنانا بہت زیادہ اتنا کام ہے کہ جو میں پیچھے چھوڑ کے آیا ہوں۔اللہ تعالی جماعت کو توفیق بخشے کہ اس دورے سے ہر لحاظ سے استفادہ کر سکے لیکن جو کام پیچھے چھوڑ کے آیا ہوں اتنا ہی کام ساتھ بھی لے کے آیا ہوں یعنی مرکزی جماعت کے عہدیداروں کے لیے بہت سے ایسے کام پڑے ہیں جن کو مہینوں کی محنت کے بعد سمیٹا جا سکتا ہے۔جو تجارب ہوئے ان میں ایک افسوسناک پہلو جو سامنے آیا وہ یہ تھا کہ جماعتوں تک حقیقت میں خطبات کے مضمون کو نہیں پہنچایا جارہا۔رپورٹوں سے اتنا تو معلوم ہوتا رہا کہ بعض مربیان نے لکھا کہ ہم خطبات کا خلاصہ جماعت تک پہنچا رہے ہیں لیکن دورے کے دوران جو مجالس ہوئی ہیں سوال وجواب کی ان سے یہ اندازہ ہوا کہ نہ صرف یہ کہ خطبات کے مضامین سے پوری طرح ساری جماعت کو آگاہ نہیں رکھا گیا بلکہ مختلف مضامین پر جو سوال و جواب کی مجالس لگتی رہی ہیں۔ان میں بہت سے اہم سوالات کے جوابات دیئے جاتے رہے ہیں اور بار بار مختلف رنگ میں ان پر روشنی ڈالی جا چکی ہے ان امور کا بھی جماعت کی اکثریت کو علم نہیں تھا۔چنانچہ اکثر مجالس میں وہ تمام سوالات دوبارہ ہوئے جن پر پہلے روشنی ڈالی جا چکی ہے ان تمام امور میں انہوں نے راہنمائی طلب کی جن کے اوپر خطبات میں بکثرت روشنی ڈالی جا چکی ہے، اور اس کا بڑا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ چند سال سے بعض خطبات تو وقتی نوعیت کے تھے یعنی وقتی ضرورتوں سے تعلق رکھنے والے لیکن بہت سے خطبات ایسے تھے جو اللہ تعالی نے ایک منصوبے کے تحت مجھے خطبات دینے کی توفیق بخشی اور آئندہ صدی کی تیاری سے تعلق رکھنے والے خطبات تھے اور مسلسل ایک ایسا خطبے کے بعد خطبہ مضمون وار چلتا رہا جس کے نتیجے میں تمام عالم کی جماعتوں کو یکجہتی عطا کرنے کے لحاظ سے بہت ہی ان خطبات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا اور مقصد بھی ان کا یہی تھا کہ ہم جو امت واحدہ کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں وہ ساری جماعت آئندہ صدی میں داخل ہونے سے پہلے خود عملاً ایک امت واحدہ بن چکی ہو اپنے نظریات کے لحاظ سے، اپنے کردار کے لحاظ سے، اپنی سوچوں کے نہج کے لحاظ سے ، طرز فکر، طرز زندگی کے لحاظ سے ، ہر پہلو سے اسلام نے اس تفصیل سے تعلیم عطا فرمائی ہے کہ اگر اس ساری تعلیم کوملحوظ رکھا جائے تو دنیا کے کسی کونے میں بھی کوئی احمدی مسلمان بستا ہو اس کا کردار بعینہ ویسا ہوسکتا ہے جو دنیا کے کسی