خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 101

خطبات طاہر جلدے 101 حوالہ سے آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں تا انسانیت کی مددکر سکیں اور اللہ کوخوش کر سکیں۔خطبه جمعه ۱۹ار فروری ۱۹۸۸ء یہ ان نکات میں سے ایک نکتہ ہے جو مجھے پریشان کئے ہوئے ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ نائیجیرین معاشرے کے ایک طبقہ میں اپنے غریب ہمسایوں کیلئے رعونت کا مزاج پایا جاتا ہے۔ان میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس پر فخر کرتے ہیں اور اپنے ہمسایوں جنکو ان سے کم ملا ہے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وہ اپنی بڑائی کی باتیں کرتے ہیں، اپنے تفاخر کی ، اپنی دولت کی ، اپنی صنعت کی ، اپنی سڑکوں ، کاروں اور پڑول کی ایسے جیسا کہ انہوں نے یہ سب کچھ اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہے۔جن چیزوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں نائیجیریا کے لوگوں نے کچھ بھی از خود حاصل نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیل کی صورت میں دولت عطا کی ہے آپ تو ان معدنی وسائل سے از خود فائدہ تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔بیرونی ممالک سے لوگ یہاں آئے اور انہوں نے اس دولت میں آپ سے اشتراک کیا۔انہوں نے تیل کے کنویں لگائے انہوں نے تیل نکالا، انہوں نے برآمد اور درآمد کا نظام رائج کیا اور اس عمل کے دوران انہوں نے آپ کو خوب لوٹا۔جو کچھ آپ کے لئے بچ گیا آپ نے اس کو غیر ملکی کاروں پر خرچ کرنا شروع کر دیا اور غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دے دیئے کہ وہ آپ کی سڑکیں بنائیں اور تعیش کی زندگی گزارنا شروع کردی جو کہ ملک کے عام لوگوں سے مختلف تھی۔اس کے نتیجہ میں افریقہ میں دو طبقات پیدا ہو گئے۔ان میں سے ایک نسبتاً زیادہ امیر اور اکٹر باز جبکہ دوسرا منکسر المزاج اور افریقہ کے عام لوگوں سے تعلق رکھنے والا۔اس میں فخر کرنے والی کوئی بھی بات نہیں آپ سے تو یہ تقاضا ہے کہ آپ اللہ کے شکر گزار ہوں اور اس کی معافی کے خواستگار ہوں اس بے انتہا دولت کے زیاں پر جس کے آپ ذمہ دار ہیں یعنی ان غیر ملکی چیزوں کی خرید کے عمل کی وجہ سے بغیر اس کی پرواہ کئے کہ ہم یہ کیا کر رہے ہیں؟ آپ کس طرح یہ دولت خرچ کر رہے ہیں؟ آپ اس کو بہتر انداز میں خرچ کر سکتے ہیں۔تاہم میں جو آپ نے کیا ہے اس پر یہاں تنقید کرنے نہیں آیا۔میں آپ کو صرف یاد کروارہا ہوں کہ یہ سب کچھ نا یجیریا کے لوگوں کی محنت سے نہیں ہوا یہ محض اللہ کے فضل سے ہوا ہے۔اس نے آپ کو یہ مواقع عطا کئے ہیں اور ان میں سے کچھ مواقع آپ زیر استعمال لائے ہیں۔پس جو کچھ آپ کو یہاں ملا ہے اپنے اردگرد کے رہنے والے ملکوں کی نسبت کیا وہ فخر کرنے کیلئے ہے؟ اللہ نے ان کو یہ نہیں دیا تو وہ غریب ہی رہے۔اس لئے آپ ان سے مہربانی کا