خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 102
خطبات طاہر جلدے 102 خطبه جمعه ۱۹؍ فروری ۱۹۸۸ء سلوک کریں، ان کی خدمت کرنے کا مزاج بنائیں۔اپنے کردار کی عظمت دکھا ئیں اور فراخ دلی کا مظاہرہ کریں۔صرف اس طریق پر آپ اللہ کو راضی کر سکتے ہیں اور جب آپ اللہ کو خوش کریں گے تو اللہ آپ پر اپنی رحمتوں کے بے انتہا بارش نازل فرمائے گا۔وقت کی کمی اور خطبہ کے بعد کی پہلے سے طے شدہ ضروری مصروفیات کے پیش نظر میں اس خطبہ کو ختم کرنا چاہوں گا۔لیکن اس سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو بتاؤں کہ جذبات شکر ایسی چیز نہیں ہے جو اظہار تشکر کے بعد ختم ہو جائے بلکہ یہ لامتناہی سلسلہ ہے جو کہ مواقع کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے کیونکہ جب آپ کسی شخص کا شکر یہ ادا کرتے ہیں تو اگر وہ مخلص اور سچا ہے تو شکر گزار شخص خود بھی جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے بدلہ میں آپ سے بھی حسن سلوک کرے تب وہ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے نہ صرف الفاظ سے بلکہ آپ کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ۔تب آپ دوبارہ اس شکریہ پر اس کے لئے محبت محسوس کریں گے۔الفاظ کے ساتھ بھی اور اچھے کاموں کے ساتھ اور وہ پھر آپ کے ساتھ یہ سارا عمل دہرائے گا۔سو قطعی حقیقت یہ ہے کہ اظہار تشکر ایک نہ مرنے والاخزانہ ہے جو بھی ختم نہیں ہوتا۔یہ انسانی خوبی کو بہتر سے بہتر کرتا چلا جاتا ہے اور یہلا زوال خوبی ہے یہ کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی۔دراصل یہ وہ حقیقت ہے جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لَبِنُ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم :۸) اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں تم پر مزید افضال نازل کرونگا اور اگر اللہ آپ پر مزید فضل نازل کرے تو کیا ہوتا ہے۔اگر آپ شکر گزار ہونگے تو اللہ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے میرے بندے میرے شکر گزار ہوتے ہیں تو میں کیوں نہ اس کی قدر کروں اور پھر آپ سب اس کی رحمت تلے آجاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہمیں لازما اللہ کا زیادہ شکر ادا کرنا چاہئے اور پھر اللہ کہتا ہے کہ اگر میرے بندے زیادہ شکر گزار ہیں تو میں کیوں ان پر زیادہ مہربان نہ ہوں تو وہ اپنی رحمتیں اور فضل ان پر جاری رکھتا ہے۔اس طرح اللہ نے انبیاء پیدا کئے ہیں۔وہ شکر گزار لوگ ہوتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کا چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی شکر ادا کرتے ہیں۔بہت ہی معمولی چیزوں پر جو اللہ نے ان کو دیں تو اللہ ان پر اپنے افضال نازل کرتا رہتا ہے بوجہ ان کے شکر گزار ہونے کے اور یہ قطعی بات ہے کہ وہ اپنے شکر میں بڑھتے ہی جاتے ہیں اور اللہ اپنے فضل میں بڑھتا جاتا ہے۔پس یہ نہ ختم ہونے والی حقیقت ہے اور اس میں ہمیشہ ترقی کی گنجائش