خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 506

خطبات طاہر جلدے 506 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات میں سے متعدد اقتباسات میں جماعت کے سامنے پہلے رکھ چکا ہوں لیکن آج زیادہ تر توجہ نماز کی ابتدائی منازل کی طرف دلانی چاہتا ہوں کیونکہ میں نے بارہا اپنے سفر کے دوران خصوصاً مغرب کے ممالک میں اپنے سفر کے دوران یہ مشاہدہ کیا کہ جماعت احمدیہ کا ایک طبقہ ایسا ہے جو ابھی تک نماز کی ابتدائی حالتوں پر بھی قائم نہیں ہوسکا۔انگلستان میں بھی میں نے عمومی جائزہ لیا اور بعض خاندانوں سے تفصیلی گفتگو بھی کی۔ان کے بچوں کے حالات معلوم کئے تو مجھے یہ دیکھ کر بہت تکلیف پہنچی کہ ہم ابھی تک نماز کے سلسلے میں اپنی آئندہ نسلوں کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکے اور یہی وہ امر ہے جو میرے لئے پہلی صدی کے آخر پر سب سے زیادہ فکر کا موجب بن رہا ہے۔جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا اگر جماعت احمد یہ اگلی صدی میں اس حال میں داخل ہو کہ ہماری اگلی نسلیں نماز سے غافل ہوں۔ایک ایسی فکر انگیز بات ہے اور ایسی قابل فکر بات ہے کہ جب تک ہر دل میں اس کی فکر پیدا نہ ہو میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآنہیں ہو سکا اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود جس رنگ میں میں یہ فکر دلوں میں پیدا کرنی چاہتا ہوں میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی تک اس رنگ میں یہ فکر بہت سے دلوں میں پیدا نہیں کر سکا۔جہاں تک جماعت کے عمومی اخلاص کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ابتلا کے موجودہ دور میں جماعت کے اخلاص کا عمومی معیار بہت بلند ہوا ہے اور نیک کاموں میں تعاون کی روح میں ایک نئی جلا پیدا ہوگئی ہے۔ایک آواز پر لبیک کہنے کے لئے کثرت کے ساتھ دل بے چین ہیں اور جب بھی جماعت کو نیکی کی طرف بلایا جاتا ہے جس طرح اخلاص کے ساتھ اس آواز پر جماعت لبیک کہتی ہے اس سے میرا دل حمد سے بھر جاتا ہے لیکن یہ اخلاص فی ذاتہ کچھ چیز نہیں اگر اس اخلاص کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ سے ایک مستقل تعلق پیدا نہ ہو جائے۔یہ اخلاص اپنی ذات میں محفوظ نہیں اگر اس اخلاص کو نماز کے اور عبادت کے برتنوں میں محفوظ نہ کیا جائے۔اس لحاظ سے یہ اخلاص ایک آنے جانے والے موسم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔بعض دفعہ سخت گرمیوں کے بعد اچھا موسم آتا ہے اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے چلتے ہیں، بعض دفعہ سخت سردی کے بعد خوشگوار موسم کے دور آتے ہیں لیکن یہ چیزیں آنے جانے والی ہیں ٹھہر جانے والی نہیں۔عبادت کوئی موسمی کیفیت کا نام نہیں