خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 507 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 507

خطبات طاہر جلدے 507 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء عبادت ایک مستقل زندگی کا رابطہ ہے۔عبادت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہم ہوا میں سانس لیتے ہیں۔کئی قسم کے زندہ رہنے کے طریق ہیں جو انسان کو لازم کئے گئے ہیں مگر ہوا اور سانس کا جو رشتہ زندگی سے ہے ایسا مستقل دائمی لازمی اور ہرلحہ جاری رہنے والا رشتہ اور کسی چیز کا نہیں۔پس عبادت کو یہی رشتہ انسان کی روحانی زندگی سے ہے۔یہ عبادت ذکر الہی کی صورت میں ہمہ وقت جاری رہ سکتی ہے لیکن وہ نماز جو قرآن کریم نے ہمیں سکھائی اور سنت نے جسے ہمارے سامنے تفصیل سے پیش کیا یہ وہ کم سے کم نماز ہے، کم سے کم ذکر الہی ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔اس لئے میں خصوصیت کے ساتھ آج پھر جماعت کو نماز کی اہمیت کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ اکثر وہ احباب جو اس وقت مجلس میں حاضر ہیں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نمازوں کے پابند ہیں مگر میں حال کے موجودہ دور کی بات نہیں کر رہا میں مستقبل کی بات کر رہا ہوں۔وہ لوگ جو آج نمازی ہیں جب تک ان کی اولادیں نمازی نہ بن جائیں جب تک ان کی آئندہ نسلیں ان کی آنکھوں کے سامنے نماز پر قائم نہ ہو جائیں۔اس وقت تک احمدیت کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔اس وقت تک احمدیت کے مستقبل کے متعلق خوش آئند امنگیں رکھنے کا ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا۔اس لئے بالعموم ہر فرد بشر ، ہر احمدی بالغ سے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو میں بڑے عجز کے ساتھ یہ استدعا کرتا ہوں کہ اپنے گھروں میں اپنی آئندہ نسلوں کی نمازوں کی حالت پر غور کریں۔ان کا جائزہ لیں ، ان سے پوچھیں اور روز پوچھا کریں کہ وہ کتنی نمازیں پڑھتے ہیں معلوم کریں کہ جو کچھ وہ نماز میں پڑھتے ہیں اس کا مطلب بھی ان کو آتا ہے یا نہیں اور اگر مطلب آتا ہے تو غور سے پڑھتے ہیں یا اس انداز میں پڑھتے ہیں کہ جتنی جلدی یہ بوجھ گلے سے اتار پھینکا جا سکے اتنی جلدی نماز سے فارغ ہو کر دنیا طلبی کے کاموں میں مصروف ہو جائیں۔اس پہلو سے اگر آپ جائزہ لیں گے اور حق کی نظر سے جائزہ لیں گے، سچ کی نظر سے جائزہ لیں گے تو مجھے ڈر ہے کہ جو جواب آپ کے سامنے ابھریں گے وہ دلوں کے بے چین کر دینے والے جواب ہوں گے۔کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایسی بات ایسی مجلس میں کرنا جس میں تمام دنیا سے مختلف ممالک کے نمائندے آئے ہوں یہ اچھا اثر پیدا نہیں کرے گا، کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ اقرار جو تمام دنیا میں تشہیر پاسکتا ہے اور مخالف اس سے خوش ہو سکتے ہیں ایسی مجلس میں کرنا کوئی اچھی بات نہیں مگر مجھے اس کی ادنیٰ بھی پرواہ نہیں کہ دنیا سچائی کے اقرار کے