خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 505

خطبات طاہر جلدے 505 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء قیام نماز اور ہماری ذمہ داریاں (خطبہ جمعہ فرموده ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء بمقام اسلام آباد ٹلفورڈ برطانیہ ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت تلاوت کی: اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَاَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (الكبوت (٢٢) پھر فرمایا: جماعت احمدیہ کی تاریخ کے پہلے سو سال عنقریب پورے ہونے کو ہیں۔جوں جوں اگلی صدی قریب تر آتی چلی جارہی ہے میں جماعت کو مختلف رنگ میں بعض تربیتی امور کی طرف متوجہ کر رہا ہوں اور اس سلسلے میں گزشتہ ایک سال سے مسلسل ایک مربوط مضمون کی شکل میں یکے بعد دیگرے کئی خطبات دیئے لیکن ان سب میں سب سے زیادہ اہم امر جس کی طرف آج میں دوبارہ جماعت احمدیہ عالمگیر کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ نماز با جماعت کے قیام کے سلسلے میں ہے۔تمام عبادتوں کی روح نماز ہے، انسانی پیدائش کا مقصد نماز ہے اور نماز سے حاصل ہوتا ہے۔نماز میں ہر قسم کی فلاح کی کنجیاں ہیں اور جیسے جیسے انسان نماز میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے فلاح کی مزید کنجیاں عطا ہوتی رہتی ہیں۔میں نے عمد الفظ کنجی استعمال نہیں کیا بلکہ جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ نماز کی کیفیت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان کو اللہ تعالیٰ نئے امور کی فہم عطا فرما تا کرتا چلا جاتا ہے اور نئے مضامین اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں اس