خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 766
خطبات طاہر جلد ۶ 766 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء لیکن علاقائی نبی پیدا کئے کیونکہ علاقائی مزاج کو سمجھ کر پیغام دینے والا دنیا کو مخاطب نہیں ہوسکتا۔ایک ہی صورت تھی تمام دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کی۔ایک ایسے عالمی نبی کو پیدا کیا جاتا جو فطرت کا مزاج سمجھتا، اس فطرت کا مزاج سمجھتا جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔جس پر ہر کالے کو پیدا کیا ہے، جس پر ہر گورے کو پیدا کیا ہے، جس پر ہر سرخ کو پیدا کیا ہے، جس پر ہر زرد کو پیدا کیا ہے۔مشرق کو بھی پیدا کیا ہے، مغرب کو بھی پیدا کیا ہے۔چنانچہ اس نور کا جو محمد مصطفی ﷺ سے ذکر کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے:۔لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ (النور: ۳۶) یہ تو عالمی نور ہے نہ یہ مشرق کی جائیداد ہے نہ مغرب کی جائیداد ہے۔ہر ملک اور ہر قوم کی نمائندگی کرنے والا نبی ہے۔اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علیہ نے اپنے آخری خطاب میں جو حجۃ الوداع کہلاتا ہے، بڑی شدت کے ساتھ ، بڑی سختی کے ساتھ قبائلی تقسیموں کور د فر ما یا جاہلیت قرار دیا۔انسان کو ایک ہاتھ پر اکٹھا رہنے کی نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ آج اس دن اور اس دن کی عزت کی قسم ! جس دن میں بات کر رہا ہوں ( یعنی حج اکبر کا دن تھا) اس مقام کی قسم ! جس مقام پر میں کھڑا ہوں، اس دن کی حرمت اس مقام کی حرمت میں تمہیں یاد دلاتا ہوں۔میں ان سارے جاہلیت کے خیالات کو جو انسان کو مختلف قوموں اور نظریوں میں تفریق کرنے والے ہیں اپنے پاؤں کے نیچے چل رہا ہوں، ہمیشہ کے لئے میں ان کو کچل چکا ہوں، کبھی کوئی تم میں سے ان کو زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔اگر تم سچے مسلمان ہو، اگر تم میری اس آخری نصیحت کی کوئی بھی قدر کرتے ہو تو یہ تفریقیں تمہارے پاؤں کے نیچے بھی ہمیشہ کھلی جانی چاہئے۔یہ وہ دین ہے جو دین واحد ہے جس نے تمام دنیا کی قوموں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے۔یہ ہے محمد مصطفی ﷺ کا دین جو عالمی نبی تھے، ہر قوم کو پیغام دینے کے لئے خدا کی طرف سے چنے گئے تھے۔پس پہلے بھی جب میں اس دورے پر حاضر ہوا تھا اپنے ذاتی طور پر ، ایک مجلس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آپ ایسے آدمیوں کو بھیج دیتے ہیں جو امریکن مزاج نہیں سمجھتے۔میں نے ان سے کہا کہ وہ صلى الله۔محمد مصطفی مے کا مزاج سمجھتے ہیں کہ نہیں؟ مجھے صرف اس میں دلچسپی ہے۔اگر محمد مصطفی میلے کا مزاج سمجھنے والے غلام تمہارے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو امریکن مزاج سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں، جاپانی مزاج سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں ، افریقین مزاج سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں لا زما وہ اس بات کے اہل