خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 431

خطبات طاہر جلد ۶ 431 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء نہیں پڑھتا وہ متکبر ہے۔یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر شخص جو تین دفعہ نہ پڑھے وہ متکبر ہے مراد یہ ہے کہ جس شخص کے ذہن میں یہ بات ہو کہ سرسری مطالعہ سے ہی وہ میرے مطالب کو پا جائے گا وہ بیوقوف اور متکبر ہے (سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر :۴۱۰ )۔میری عبارتیں سطحی مطالعہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں، بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے۔پس تین کا لفظ بھی ایک تمثیل کے طور پر ایک مثال کے طور پر بیان ہوا ہے۔ضروری نہیں کہ بعینہ تین دفعہ پڑھ لیں تو آپ تکبر کی بجائے عاجز بن جائیں گے مراد یہ ہے بار بار پڑھو اور غور کرو کیونکہ تم ایک دفعہ گزرو گے تو تمہیں کچھ اور چیز نظر آئے گی دوسری دفعہ گز رو گے تو اور گہرا تمہیں غور کا موقع ملے گا۔تو کم سے کم تین مرتبہ تو تم غور کرو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ پیش آنے والے ابتلا کو عبودیت کے ساتھ جو باندھا ہے آنحضرت ﷺ کی سیرت پر غور کرنے سے بعینہ وہی مضمون ثابت ہوتا ہے۔جنگ بدر کا وقت ایسا تھا جو رسول اکرم ﷺ اور آپ کے غلاموں کے لئے زندگی اور موت کا وقت تھا۔ان معنوں میں جو دنیا کے محاورے میں کہا جاتا ہے ورنہ آپ کے لئے تو ایک ہمیشہ کے لئے ایک ابدی زندگی کا وقت ہی تھا ، موت تو آپ کے سامنے پیش ہی نہیں ہو سکتی لیکن اس کے با وجود محاورۂ قرآن کریم نے بھی یہ مضمون باندھا ہے۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (الانعام : ۱۶۳) تو ایک رنگ میں موت کا لفظ بھی صادق آتا ہے مگر اور معنی رکھتا ہے۔بہر حال زندگی اور موت کا سوال ان معنوں میں تھا کہ اگر صحابہ اُس وقت جنگ ہار جاتے تو ہمیشہ کے لئے اسلام مٹ جاتا اس کے سوا کچھ تھا ہی نہیں جو کچھ تھا وہ لے کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔اس وقت آنحضرت ﷺ نے فتح کی دعا نہیں مانگی تھی ، آپ نے یہ دعا مانگی اے خدا ! اگر آج تو نے ان لوگوں کو ، اس چھوٹی سی جماعت کو مٹنے دیا تو تیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا ( ترندی کتاب تفسیر القرآن حدیث نمبر ۳۰۰۶)۔یہ عبودیت کے ساتھ گہر اعشق کا اظہار تھا وہ۔حالانکہ ایسے خطر ناک وقت میں پہلا کلمہ زبان پر نصرت الہی کی طلب کا آنا چاہئے لیکن بار بار گریہ وزاری کے ساتھ یہی فرماتے کہ اے خدا! میں تو تیری