خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 430
خطبات طاہر جلد ۶ 430 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء میں خدا کی خاطر کھوئے گئے ہوں، وہ ملنگی اور غربت میں نعرے لگایا کرتے ہیں۔نعرہ نشان ہے فتح کا اور نعرہ نشان ہے کامل تو کل کا اور کامل یقین کا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت داؤدعلیہ السلام کو عملاً یہ خراج تحسین پیش فرما دیا ایک چھوٹے سے لفظ سے ایزاد کے ساتھ کہ وہ ابتدائی حالت میں جو انتہائی کمزوری کی حالت تھی اس وقت بھی عاجزانہ نعرے لگایا کرتے تھے۔عجز کے اندر ایک تکبیر کا معنی بھی تھا کہ ہم عاجز ہیں کچھ بھی نہیں ہے خدا کے سوا ہمارے لئے لیکن اسی میں ہماری عظمت ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔پھر فرمایا: مسیح کی غریبانہ تضرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں، مسیح کے لئے تضرعات کا لفظ استعمال فرمایا ہے اس لئے کہ جہاں تک میں سمجھا ہوں فرق اس لئے کر کے دکھایا گیا ہے کہ حضرت داؤد کو اپنی زندگی میں کامل غلبہ نصیب ہوا تھا اور ان کی فتح کا زمانہ بہت دور نہیں تھا اس لئے ان کو زیبا تھا کہ بجز کے ساتھ نعرے بھی لگائیں لیکن حضرت مسیح کے ساتھ ایک لمبی غربت کا دور وابستہ کیا گیا تھا۔نسلاً بعد نسل آپ کو ابتلا میں سے گزرنا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے لئے غریبانہ تضرعات کا محاورہ استعمال فرمایا حضرت داؤد کے عاجزانہ نعروں کے مقابل پر۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔دو اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قدرت کی تصریح کرتے ہیں۔یہ الفاظ بھی بہت ہی معنی خیز ہیں جو آنحضرت ﷺ کے لئے آپ نے استعمال فرمائے۔عبودیت کہہ کر آپ کے کامل تسلیم و رضا کا مضمون باندھ دیا۔فرمایا کہ وہاں آپ کی عاجزی اور گریہ وزاری میں طلب کا مضمون اتنا نہیں تھا مدد مانگنے کا مضمون اتنا نہیں تھا جتنا غلامی کا مضمون تھا کہ ہم تیرے ہیں اور تیرے ہی ہو چکے ہیں اس لئے جس حال میں بھی تو ہمیں رکھے گا ہم فتح مند ہی فتح مند ہیں کیونکہ فتح عبودیت سے تعلق رکھتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام یونہی اتفاقی حادثات کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوتا کہ ذہن میں کوئی خیال آگیا کوئی لفظ آ گیا تو آپ نے وہاں باندھ دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام پر غور کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تبھی آپ فرماتے ہیں کہ جو تین دفعہ میرے کلام کو