خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 432

خطبات طاہر جلد ۶ 432 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۸۷ء عبادت کے قیام کی خاطر آیا ہوں، میرے آنے کا مقصد فوت ہو جائے گا اگر آج اس میدان ہمیں شکست ملی تو پھر قیامت تک تیری عبادت کوئی نہیں کرے گا۔بہت ہی عظیم الشان دعا تھی اور فتح کے لئے اس سے بہتر دعا مانگی ہی نہیں جاسکتی مگر اس کو عبودیت کا ابتہال فرمانا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کامل عرفان پر دلالت کرتا ہے۔ایسا عشق تھا آنحضرت ﷺ سے اور ایسا عرفان تھا آپ کی ذات کا کہ ان کے لئے بعینہ الفاظ موزوں تھے، یہی زیب دیتے تھے اور یہی آپ نے اختیار فرمائے۔اگر یہ ابتلا درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء ان مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پاسکتے کہ جو ابتلا کی برکت سے انہوں نے پالئے۔ابتلا نے ان کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے بچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے ان پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپالیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مرتیا نہ عادت کو یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مہربان نہیں“۔یہ واقعات بھی روزمرہ کی زندگی میں گزرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ایسا ہوا کرتا ہے بعض دفعہ پیار میں، آزمائش میں ، مائیں بعض دفعہ منہ بسور کے بچے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتی ہیں اور وہ لاڈ ہورہا ہوتا ہے کوئی ناراضگی نہیں ہوتی۔وہ دیکھتی ہیں کہ اس وقت یہ کیا حرکت کرتا ہے؟ کیا ناراضگی کے جواب میں غصہ دکھاتا ہے یا بد تمیزی شروع کر دیتا ہے یا اور زیادہ پیار کا اظہار کرتا ہے۔تو وہ ایک چند لمحے کی آزمائش ہوا کرتی ہے لیکن عظیم تر مقاصد میں بلند رشتوں میں اور تعلقات میں بعض دفعه یه آزمائش لمبے عرصے تک پھیل جاتی ہے۔