خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 347
خطبات طاہر جلد ۶ 347 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء دوڑتا چلا جارہا ہے، اس تیزی کے ساتھ انحطاط پذیر ہے کہ جولوگ احساس رکھتے ہیں وہ بارہا اس غم میں کڑھتے ہیں، خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں اور بہت سی صورتوں میں جہاں تک دنیاوی اصلاحی کوششوں کا تعلق ہے ان کی پیش نہیں جاتی۔بہت زیادہ مہیب حالات ہیں اس سے بہت زیادہ جو پچھلے سال آپ نے دیکھے تھے۔دن بدن کیفیت بگڑتی چلی جارہی ہے۔ایک طرف بظاہر حکومتوں کی شوکتوں سے ایک اجماع کی تصویر بھی کھیچ رہی ہے۔بڑے بڑے منصوبے باندھے جا رہے ہیں عالم اسلام کو اکٹھا کرنے کے، ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے ان کی سیاسی وحدت کو جو پہلے منتشر ہو چکی تھی پھر ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے اور جہاں تک اسلام کی ظاہری شوکت کا تعلق ہے اسے بحال کرنے کے لئے بہت بڑے وسیع منصوبے ہیں جو بڑی بڑی حکومتیں بنارہی ہیں اور اس میں زیادہ دلچسپی لے رہیں ہیں لیکن جہاں تک ان کی کنہ کا تعلق ہے، ان کی حقیقت کا تعلق ہے ان میں دنیا داری کے لئے ، وجاہتوں کے لئے کوششیں، غیر قوموں میں نفوذ کے لئے کوششیں اور بعض حکومتوں کے اپنے اثر ونفوذ کو بڑھانے کے لئے کوششیں یہی اس تمام اجتماعی جد و جہد کا ماحصل ہے۔یہی خلاصہ ہے اس تحریک احیائے نو کا۔عملاً جب تک اسلام مسلمان افراد کے رگ و پے میں پیوستہ نہ ہو جائے ، ان کے خون میں داخل ہو کر ان میں دوڑنا نہ شروع کر دے اس وقت تک فی الحقیقت اسلام کے لئے کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور اسلام کی شوکت کا راز مسلمانوں کے تقویٰ میں ہے، اس طرف توجہ نہیں ہے۔چنانچہ ایسی حکومتیں آپ دیکھیں گے جنہوں نے اپنے نام اسلامی حکومتیں قرار دے دیئے جنہوں نے شریعت کو نافذ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں یہ الگ بات ہے کہ ان کی شریعت کا تصور کس حد تک باقی علماء نزد یک اتفاق کے لائق ہے یا نہیں ہے لیکن بہر حال ایک نیکی کے نام پر ایک کوشش دکھائی دے رہی ہے اور خود ایسے ممالک ہی میں جہاں اسلام کا چرچا بڑھ رہا ہے یہی حکومت والے ساتھ یہ اعلان کرنے پر بھی مجبور ہورہے ہیں کہ دن بدن بددیانتی بڑھ رہی ہے ، دن بدن ظلم بڑھ رہا ہے، دن بدن سفا کی زیادہ ہوتی چلی جارہی ہے، دن بدن اخلاقی قدریں گر رہی ہیں۔جو بد رسوم پہلے نہیں تھیں غریب ممالک میں وہ ان غریب ممالک میں داخل ہو رہی ہیں۔پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ Drug Adiction یہ بڑے بڑے امیر ممالک کی عیاشی ہے یعنی ایسے افیم قسم کی دوائیں جو