خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 346
خطبات طاہر جلد ۶ 346 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء یا صحنوں میں یا شامیانوں کے نیچے یا کھلی فضا میں جہاں جہاں کسی کو جگہ ملی ہے وہ آج عبادت کے لئے اکٹھا ہوا ہے۔تو عبادت کی کثرت بھی اپنی ذات میں ایک برکت پیدا کرتی ہے۔کثرت ان معنوں میں کہ عبادت کرنے والوں کی کثرت ہو جائے اور کثرت کے ساتھ ایک قوت پیدا ہوتی ہے اس لئے اگر سارا عالم اسلام اس جمعہ کے دن ، خواہ ان میں سے بہت سے ایک ہی دن اکٹھے ہونے والے ہوں اکٹھا ہو جائے اور تقویٰ کی دعا مانگے ، عالم اسلام کے لئے اچھے نصیبوں کی دعا مانگے ، بدیوں سے پر ہیز کی دعا مانگے تو مجھے یقین ہے کہ اس جمعہ کی دعائیں خصوصیت کے ساتھ مقبول ہوں گی اور عالم اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کے طرف سے نئی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں گی، کئی مصائب ان کے دور ہوں گے۔لیکن بد قسمتی سے آج کل کے زمانے میں نیکی کے معاملے میں بھی علماء کا اتفاق نہیں رہا اور ایسے مقدس موقع پر بھی بعض دفعہ خدا تعالیٰ سے اتحاد اور نیکی کی توفیق مانگنے کی بجائے افتراق کی تعلیم دینے والے موجود ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف جذبات کو ابھارنے والے موجود ہیں اور ایسے موقع پر جتنا بڑا اجتماع ہو اتنا ہی بڑا نحوست کا موجب بن جاتا ہے۔خدا سے برکتیں حاصل کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے غضب کو مانگے والا بن جاتا ہے۔اس لئے جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے ہمیں اس خصوصی جمعہ کے دن زیادہ تر توجہ ایسی دعاؤں کی طرف دینی چاہئے جن کا سارے عالم اسلام سے تعلق ہو اور وقتی طور پر اپنے دکھ بھول کر من حیث الجماعت اسلام کے دکھ جو ہیں ان کو پیش نظر رکھ کر ان کے لئے خصوصیت سے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ یہ تکلیفیں عالم اسلام سے ٹال دے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم ہی اسلام ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن جب میں عالم اسلام کہتا ہوں تو مرادصرف جماعت احمد یہ نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ جو بھی کسی رنگ میں بھی اسلام کی طرف منسوب ہورہا ہے، جو بھی دعوی کرتا ہے کہ اس کا توحید باری تعالیٰ سے تعلق ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ہے کے دعاوی پر ایمان لاتا ہے ہر وہ شخص ایک وسیع تر تعریف کی رُو سے عالم اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اور جب میں کہتا ہوں عالم اسلام کے دکھ تو سارے عالم اسلام کے دکھ مراد ہیں ہر اُس شخص کے دکھ مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والا ہے۔ان میں سب سے بڑے دکھ تو روحانی دکھ ہیں۔اس قدر تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں کا معاشرہ ظلم اور بدی کی طرف