خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 348
خطبات طاہر جلد ۶ 348 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء نشہ تو نہیں پیدا کرتیں شراب کے رنگ میں لیکن انسانی ذہنی صلاحیتوں کو بالکل تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔اسی دنیا میں رہتے ہوئے ابتداء میں وہ یہ تصور پیدا کرتی ہیں کہ آپ اس دنیا سے باہر بلند ہو گئے ہیں اور ایک ایسی دلکش فضا میں پہنچ گئے ہیں جہاں لذتیں ہی لذتیں ہیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔اس قسم کے نفس کے دھو کے یہ دوائیاں پیدا کر کے اس کی عادت ڈال دیتی ہیں اور اس کے نتیجے میں چونکہ یہ دوا ئیں ابتداء میں سستی ملتی ہیں اور عمد جو دوائیں پھیلانے والے لوگ ہیں وہ شروع میں ان کوستا رکھتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ ان کو مہنگا کرتے چلے جاتے ہیں اور جوں جوں حکومتیں ان کے خلاف ،ان تحریکات کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں ویسے ہی ایک اقتصادی قانون کے مطابق ان کی قیمتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔تو یہ جب امیر ممالک میں بھی داخل ہوتی ہے بُرائی تو اس کے نتیجے میں جرائم پھیل جاتے ہیں کثرت سے کیونکہ امیر ممالک میں بھی ان ڈرگز (Drugs) وغیرہ قسم کی چیزوں کو خریدنے کے لئے عام طور پر لوگوں میں استطاعت نہیں ہوتی خصوصاً نو جوان طبقے میں کیونکہ مالی لحاظ سے ان کے اندر یہ استطاعت نہیں ہوتی کہ جتنی بھی ڈرگ کی قیمت بڑھتی چلی جائے وہ اپنی عادت کے مطابق وہ حاصل کرتے چلے جائیں۔چنانچہ چوری، ظلم ، سفا کی ، گھروں کے تالے توڑنا یا ویسے اُچکوں کے طور پر بازاروں میں پھر ناکسی غریب عورت کو پکڑ لیا کسی بچے پر ظلم کر لیا اس سے کچھ چھین لیا۔یہ رجحانات جو اکثر مغربی ممالک میں آپ کو مل رہے ہیں اس کے پیچھے ڈرگ کی بدی ہے اور غریب ممالک میں آپ اندازہ کریں اگر ڈرگز کی عادتیں پھیل جائیں تو جب ان کی قیمتیں بڑھیں گی لازماً اس وقت کس قدر پاگل ہو کر یہ لوگ جرائم میں مبتلاؤں گے۔نہایت ہی خوفناک حالات پیدا ہونے والے ہیں قریب کے زمانہ میں بہت سے ایسے اسلامی ممالک میں جہاں اراد تا بعض ظالموں نے ڈرگز کو، ڈرگز کی عادت کو ایک سکیم کے مطابق عوام الناس میں جاری کیا ہے اور بعض ممالک میں تو اس کثرت سے یہ پھیل چکی ہے کہ اگر حکومت کی تمام تر کوششیں اس طرف مبذول ہو جائیں تب بھی اب وہ اس کو جڑوں سے اکھیڑنے کے قابل نہیں رہے۔مافیاز (Mafias) بن چکے ہیں جن کے قبضہ قدرت میں چلا گیا ہے سارے کا سارا ملک۔اس لئے یہ تو پہلا دور ہے اس سے جو صلاحیتیں تباہ ہوں گی ، جو روحانی قدریں ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گی ، جو بداخلاقی اس کے نتیجے میں ظاہر ہوگی وہ اپنی جگہ اور دوسروں پر جو ظلم بڑھیں گے وہ اپنی جگہ۔ایسے ملک اقتصادی لحاظ سے بھی پھر زندہ رہنے