خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 308

خطبات طاہر جلد ۶ 308 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء اس لئے رمضان میں خصوصیت کے ساتھ جماعت احمدیہ کے صبر کی آزمائش بھی ہے اور جماعت احمدیہ کو صبر کی پریکٹس یعنی کوشش کر کے اس کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر جماعت ایسا کرے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا قرآن کریم سے صاف پتا چلتا ہے کہ صابر لوگوں کی نصیحت ضرور اثر دکھاتی ہے۔آپ کی نصیحت جو صبر کے نتیجے میں پیدا ہوگی اس میں بہت غیر معمولی قوت پیدا ہو جائے گی اور جیسا کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے صبر کرنے والوں کی دعا ئیں بہت زیادہ مقبول ہوتی ہیں بہ نسبت بے صبروں کی دعاؤں کے۔قرآن کریم نے عجیب طرح اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔بعض جگہ یہ فرمایا کہ شدید بے صبرا ہوگا تو اس کی دعا قبول کروں گا یعنی جسے مصیبت کی شدت بے صبر کر دے اور بعض جگہ یہ فرمایا کہ صاحب صبر ہیں جو صاحب عزم ہیں ، صاحب صبر ہیں جن کے ساتھ خدا کی رحمت ہوتی ہے جن کی دعاؤں کو خدا قبول فرماتا ہے اور ان کے ساتھ رہتا ہے۔تو بظاہر اس میں تضاد ہے لیکن درحقیقت تضاد نہیں ہے۔جو خدا کی خاطر مستقل صبر دکھانے والے ہیں ان کی تو ہمیشہ دعائیں قبول ہوتی ہیں لیکن وہ لوگ جوصبر سے عاری ہوں ان کی ہمیشہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے ان کی اسی وقت ہوتی ہیں جبکہ مصیبت حد سے بڑھ چکی ہوتی ہے اور مضطر ہو جاتے ہیں وہ کسی پہلو قرار نہیں آتا، چین نہیں آتا ، تب وہ دعا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ چونکہ بے انتہا رحم کرنے والا ہے اس لئے وہ اس اضطرار کی حالت کو رحم کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کی دعا قبول کر لیتا ہے۔تو بظا ہر قرآن کریم میں بے صبروں کی دعا قبول کرنے کا ذکر ہے لیکن حقیقت میں مراد یہ ہے کہ بے صبری اگر انتہائی دکھ کے نتیجے میں پیدا ہو تو جب بھی ایسا واقعہ ہو خدا تعالیٰ رحم کی نظر ڈالتا ہے مگر وہ رحم کی نظر اس واقعہ سے تعلق رکھتی ہے اور عام حالات میں وہ ایسا شخص جو بے صبرا ہو اور خدا سے بے تعلق ہو وہ اس رحم کی نظر سے محروم رہتا ہے لیکن صاحب صبر وہ ہیں جن کی ہر حرکت اور ہرسکون پر خدا کے پیار کی نظر پڑتی ہے۔صاحب صبر وہ ہیں جن کی دعائیں دن کو بھی قبول ہوتی ہیں اور رات کو بھی قبول ہوتی ہیں ، بیٹھے ہوئے بھی قبول ہوتی ہیں اور کھڑے ہوئے بھی قبول ہوتی ہیں، بستروں پر آرام کرتے ہوئے بھی قبول ہوتی ہیں اور راستہ چلتے ہوئے بھی قبول ہوتی ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو فرماتے ہیں کہ جب وہ سوئے ہوئے ہوتے ہیں اس وقت