خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 309

خطبات طاہر جلد ۶ 309 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء بھی ان کی دعائیں قبول ہو رہی ہوتی ہیں۔وہ دعا ئیں بھی قبول ہو رہی ہوتی ہیں جو ابھی الفاظ میں ڈھلی نہیں ہوتیں۔ایک محض تمنا بن کے دل میں کروٹیں بدل رہی ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں بھی قبول فرمالیتا ہے۔پس بے صبری کا انتظار نہ کریں یہ انتظار نہ کریں مصیبت انتہا کو پہنچے تو پھر جب خدا تعالیٰ کا رحم ایسا جوش مارتا ہے کہ کافر اور مومن ہر ایک کی دعا قبول کر لیتا ہے اس وقت تو آپ کی دعاسنی جائے گی۔صاحب صبر بنیں تا کہ ہر حالت میں آپ کی دعا قبول کی جائے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دعا کی قبولیت کے نتیجے میں اگر خدا تعالیٰ نے آپ کی فتح کا کوئی عظیم منصوبہ بنایا ہے اس کے وقت ٹل جائیں، اس کی ترتیب بدل جائے۔جو وسیع تر منصوبے ہیں خدا تعالیٰ کے بعض مذہبی قوموں کی فتوحات کے وہ منصوبے اپنے خدو خال میں تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ان منصوبوں نے بہر حال اسی طرح جاری رہنا ہے جس طرح خدا نے کسی قوم پر فضل کرنے کا فیصلہ فرمالیا ہے۔ہاں اس کی تفاصیل میں خدا تعالیٰ کی رحمت کے سائے انسان کو سہارا دینے کے لئے جگہ جگہ میسر آنے لگتے ہیں۔عیسائیت کی ابتدائی تاریخ پر آپ نظر کریں خدا تعالیٰ نے عیسائیت کی فتح کے لئے ایک بڑا وسیع منصو بہ بنایا تھا جوکئی صدیوں پہ پھیلا ہوا تھا اور اس کا کئی ممالک سے تعلق تھا اور پھر اس کا اثر ہزاروں سال تک جاری رہنا تھا۔اس دور میں صاحب صبر ابتدائی عیسائی ایسے بھی تھے جن کا قرآن کریم نے انتہائی تعریف کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔جن کو آپ اصحاب کہف کے نام سے جانتے ہیں۔کون کہہ سکتا ہے کہ ان صاحب صبر لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہو رہی تھیں؟ کون کہہ سکتا ہے کہ ان کے لئے تسکین کے سامان میسر نہیں آرہے تھے؟ کون کہہ سکتا ہے کہ وقتاً فوقتاً ان کی دعاؤں کے نتیجے میں ان کے دشمنوں کو سزائیں نہیں ملیں ؟ لیکن اس کے باوجود وہ منصوبہ تبدیل نہیں ہوا۔جو اس کا وقت مقدر تھا وہی وقت مقدر رہا کیونکہ اس کے نتیجے میں انعامات میں بہت وسعت کے ساتھ ایک ایسی برکھا کے طور پر برسنا تھا جو ایک شہر یا ایک علاقے کے لئے یا ایک ملک کے لئے نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ پورے براعظم کو ڈھانپ لیتی ہے۔اسی طرح ابتدائی عیسائیت کے ساتھ جب تک اس کا ایک حصہ صالح حالت میں رہا خدا تعالیٰ کا یہی سلوک رہا اور ایک وسیع منصوبہ تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر فر مایا گیا ہے کہ کم و بیش تین سو