خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد ۶ 307 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء حاوی ہو جانی چاہئے۔جہاں تک دشمن کی کوششوں کا تعلق ہے رمضان مبارک میں کم ہونے کی بجائے وہ اور زیادہ منفی شکل میں بڑھ جاتی ہیں۔جہاں تک کلمہ حق سے روکنے کے لئے اور نیکیوں سے باز رکھنے کے لئے معاندانہ کوششوں کا تعلق ہے وہ رمضان مبارک میں اور بھی زیادہ زور دکھانے لگتی ہیں کیونک ہر رمضان مبارک میں یعنی جہاں تک مسلمانوں کو تعلق ہے ایسے ایسے لوگ بھی مسجدوں میں پہنچنے لگ جاتے ہیں جنہوں نے کبھی سارا سال اپنی شکل نہیں دکھائی ہوتی مسجد کو یا مسجد کی شکل نہیں دیکھی ہوتی۔وہ لوگ جو گھروں میں بھی نماز نہیں پڑھتے وہ بھی رمضان کے مہینے میں مسجد میں آنا جانا شروع کر دیتے ہیں اور پھر بعض جمعے تو ایسے آتے ہیں جبکہ سارے سال میں جن لوگوں نے ایک بھی نماز نہ پڑھی ہو وہ ان جمعوں میں پہنچ جاتے ہیں اور رمضان مبارک میں مسجدیں بھر کے ان کے محسن بھر کے اتنی جگہ بھی باقی نہیں رہتی کہ صحن میں انسان سجدے کر سکے باہر نکل جاتے ہیں ، گلیوں میں خیمے تانے جاتے ہیں اور شامیانے جگہ جگہ آپ کو دکھائی دیں گے کہ آج یہ جمعۃ الوداع ہے اس لئے بڑی کثرت کے ساتھ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔یہ سارے لوگ کہاں تھے اس سے پہلے؟ جمعۃ الوداع سے پہلے یا بعض عام جمعوں میں بھی اگر وہ نمازی ہوتے تو ہر جمعہ پر یہی کیفیت ہونی چاہئے تھی۔یہ وہ لوگ ہیں جو سارا سال غائب رہنے والے ہیں اور بعض جمعوں میں تو بہت ہی خصوصیت کے ساتھ یہ مسجدوں میں حاضر ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر ان کو اشتعال دلانے کے لئے بعض دشمنوں کو بہت ہی اچھا موقع میسر آجاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے گھروں کو خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ کے نام پر خدا کے بندوں سے نفرتیں پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنے لگتے ہیں۔اس لئے اور بھی زیادہ ہمیں صبر کی ضرورت پیش آئے گی۔ساری دنیا میں کئی ایسی مساجد ہوں گی جنہیں محض خدا کے نام پر نفرت پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا اور نفرت ان بندوں سے جو خدا سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔عجیب کیفیت ہے دنیا کے پاگل پن کی کہ وہ لوگ جو خدا کے نام پر جیتے اور خدا کے نام پر مرتے ہیں جن کی زندگی کا ہر شعبہ اللہ کی محبت میں ڈوب چکا ہوتا ہے، جو خدا کی محبت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں، ان کے خلاف خدا کے نام پر نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے اور رمضان مبارک میں یہ نفرت اور بھی زیادہ بعض اوقات جوش دکھانے لگتی ہے۔