خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 87

خطبات طاہر جلد ۶ 87 خطبه جمعه ۶ / فروری ۱۹۸۷ء طرف خیال ہی نہیں جائے گا جب ایک لکھنے والا بتائے گا کہ مجھ میں خدا کے فضل سے یہ صلاحیتیں موجود ہیں تو اچانک اس کے منتظموں کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ اچھا یہ بھی ایک چیز تھی اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔تو Grass Roots جس کو کہتے ہیں یعنی وہ گھاس کی جڑیں وہاں سے منصوبہ اٹھے تو عظیم الشان منصو بہ ہوتا ہے وہ سر کی طرف حرکت کرتا ہے اور پھر سر سے صیقل ہو کر اور مزید نقش و نگار کی درستی کے بعد واپس پہنچتا ہے اور پھر ہر ہر جگہ جہاں جہاں اس منصوبے کو عمل میں لانا ہے وہاں کے اعضاء اس میں کام شروع کر دیتے ہیں۔جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے میں نے یہ کہا تھا کہ ہر احمدی کو کم سے کم اب دوسال کے لئے دو احمدی تو پیش کرنے چاہئیں۔گزشتہ محرومیوں کا اب ماضی میں جا کہ تو ازالہ نہیں ہوسکتا لیکن مستقبل کی طرف بڑھتے بڑھتے تو ازالہ ہوسکتا ہے بہت حد تک تو دو کو تو آپ کم سے کم معیار سمجھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح پہلے ہم مالی تحریکوں میں چند آنوں سے شروع کر کے پھر بڑھاتے رہے یعنی خدا تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق اور کیا وہ وقت تھا کہ دو دو پیسے کا ریکارڈ بھی کتابوں میں چھپ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک ہاتھوں سے کہ یہ دو پیسے چندہ دیا ہے کسی نے۔یہ درست ہے کہ وہ دو پیسے کروڑوں سے بڑھ کر مقدس تھے کروڑوں سے بڑھ کر خدا کے ہاں زیادہ مقبولیت پاگئے کیونکہ وقت کے امام کی نظر میں آگئے اور اللہ کی تقدیر نے ان سے لکھوا دیا کہ فلاں شخص نے یہ اتنے پیسے دیئے ہیں۔لیکن اس کے بعد خدا کا فضل ایک دوسرے رنگ میں بھی نازل ہوا۔دو پیسے، دو پیسے نہیں رہے بلکہ اسی اخلاص کے معیار کے لوگوں کو خدا نے مالی وسعتیں عطا کیں اور عملاً یہی بات ہے جو ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہ وہی دو پیسے ہیں جو بڑھ رہے ہیں، یہ وہی چار آنے ہیں جو بڑھ رہے ہیں ، یہ وہی چند روپے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اخلاص اور محبت سے پیش کئے گئے جو برکت پارہے ہیں۔آج ہمارے ہاتھوں سے جب یہ نکلتے ہیں۔تو ہزاروں لاکھوں بعض دفعہ کروڑوں بن کر نکلتے ہیں تو خدا کے فضل نے پیمانے مختلف کر دیے مگر سر چشمہ وہی ہے ، وہی خلوص اور تقویٰ کا سر چشمہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور محنتوں کے نتیجے میں پیدا ہوا۔پس اسی نہج پر ہمیں اب تبلیغ میں بھی چندوں کا رنگ پیدا کر دینا چاہئے۔پہلے اتفاق سے